اسلام کا وراثتی نظام — Page 196
١٩٦ علاقی خالہ کا حصہ ۱۸۰۰ روپے میں خاوند کا حصہ = ۱۸۰۰ روپے میں اخیافی پھوپھی کا حصہ ۱۸۰۰ روپے میں علاقی ماموں کا حصہ ۱۸۰۰ روپے میں علاقی خالہ کا حصہ = + × ۱۸۰۰ = ۱/۳ × ۱۸۰۰ = ١/٩ ۱۸۰۰ = = = ۹۰۰ روپے ۶۰۰ روپے = = ۲۰۰ روپے ۱۸۰۰ × ۱/۱۸ = ۱۰۰روپے ذوی الارحام درجه چهارم قسم نمبر ۲ اعمام اور عمات کی اولا د درجہ چہارم مقسم نمبر ۲ میں شامل ہے یعنی چچاؤں پھیپھیوں ماموؤں اور خالا ؤں کی ایسی اولا د خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہو جو عصبات میں شامل نہیں (گویا حقیقی اور علاتی چچاؤں کے بیٹے جو عصبات میں شامل ہیں۔وہ ذوی الارحام میں شامل نہیں ہو سکتے ) اس قسم میں ترتیب تو ریث حسب ذیل ہے۔(۱) پدری سلسله الف۔حقیقی چچاؤں کی بیٹیاں لیے حقیقی پھپھیوں کی اولا د ( بیٹے بیٹیاں) ج۔علاقی چا کی بیٹیاں ہے علاقی پھپھیوں کی اولاد ( بیٹے بیٹیاں) اخیافی چچاؤں اور پھپھیوں کی اولاد جن میں برابر برابر تقسیم ہوگی تذکیر و تانیث کا فرق نہیں کیا جائے گا۔جو زمرہ بھی میراث کا حقدار بنے گا اس میں جائداد اس طرح تقسیم ہو گی جس طرح درجہ دوم کے ذوی الارحام میں ہوتی ہے نیز ایک زمرے کے تمام ارکان کے ختم ہو جانے کے بعد اس سے اگلے زمرے کا رکن یا ارکان وارث ہوں گے۔(۲) مادری سلسله الف۔حقیقی ماموؤں اور خالاؤں کی اولاد۔علاقی ماموؤں اور خالاؤں کی اولاد۔ج اخیافی ماموؤں اور خالاؤں کی اولاد ( جن کا حصہ ۱/۳ برابر برابر تقسیم ہو گا ) لے و سے حقیقی اور علاتی چچا کے بیٹے عصبات میں شامل ہیں۔