اسلام کا وراثتی نظام — Page 195
۱۹۵ اس لئے پدری سلسلہ میں علاقی پھوپھی کا حصہ مادری سلسلہ میں حقیقی ماموں کا حصہ مثال نمبر ۳ : اور خالہ کا حصہ = = ۲/۳ = + = + = ایک میت نے زوجہ، اخیافی چچا، اخیافی پھوپھی ، حقیقی ماموں اور حقیقی خالہ وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔زوجہ کا حصہ باقی ۱/۴ (بطور ذوی الفروض ) ۳/۴ - ۱/۴ - ۱ = اس باقی (۳/۴) کا ۲/۳ حصہ پدری سلسلہ کے رشتہ داروں کو اور ۱/۳ حصہ مادری سلسلہ کے رشتہ داروں کو ملے گا۔اس لئے اخیافی چا اور اخیافی پھوپھی کا حصہ ہر ایک کا حصہ حقیقی ماموں اور حقیقی خالہ کا حصہ حقیقی ماموں کا حصہ حقیقی خالہ کا حصہ = = = = -222-12 X = = || -| -| -| + = یعنی اگر جائداد کے ۱۲ سہام کئے جائیں تو ۳ سهام زوجہ کو ۳ سهام اخیافی چچا کو سهام اخیافی پھوپھی کو ۲ سہام حقیقی ماموں کو اور ایک سہم حقیقی خالہ کو ملیں گے۔مثال نمبر ۴ : ایک میت نے خاوند، علاتی ماموں ، علاتی خالہ اور اخیافی پھوپھی وارث چھوڑے اگر تر که قابل تقسیم ۱۸۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔خاوند کا حصہ باقی اخیافی پھوپھی کا حصہ علاقی ماموں کا حصہ ۱/۲ = ۱/۲ ۱/۲ = 1/8= 1/5 - 1 = × +== -| -|