اسلام کا وراثتی نظام — Page 194
۱۹۴ (للذكر مثل حظ الانثیین کے اصول کے تحت تقسیم ہونا چاہئے لیکن امام محمد کے نزدیک اسی طریق سے تقسیم ہونی چاہئے جس طرح سے ذوی الارحام کے درجہ اول کے باب میں بیان کی گئی ہے۔ذوی الارحام درجہ چہارم مقسم اول میت کی ہر قسم کی پھوپھیاں (حقیقی، علاتی اور اخیافی) ہر قسم کی خالائیں اور ہر قسم کے ماموں۔اخیافی چچا۔ان میں سے باپ کی طرف سے پھوپھیاں ( ہر سہ قسم ) اور اخیافی چاوارث بنتے ہیں۔اور ماں کی طرف سے ماموں اور خالائیں ( دونو ہر قسم ) گویا باپ کی طرف سے اس قسم میں چار رشتہ دار اور ماں کی طرف سے ۶ رشتہ دار شامل ہوتے ہیں۔یہ کل دس بنے۔اب ہم ان کے درمیان میراث کی تقسیم کی چند ایک مثالیں بیان کرتے ہیں۔مثال نمبر 1: ایک میت نے دو حقیقی پھوپھیاں، ایک علاتی پھوپھی ، دو حقیقی خالائیں اور ایک حقیقی ماموں وارث چھوڑے ہیں۔ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔علاقی پھوپھی، حقیقی پھوپھی کی وجہ سے محروم رہے گی۔دو حقیقی پھوپھیوں کا حصہ ایک حقیقی پھوپھی کا حصہ = ۲/۳ (پدری حصہ) = 4/1 دو حقیقی خالاؤں اور ایک حقیقی ماموں کا حصہ = ۱/۳ (مادری حصہ) = +=+x = = اس لئے ماموں کا حصہ اور ہر خالہ کا حصہ مثال نمبر ۲: ایک میت نے ایک علاقی پھوپھی ، دو اخیافی چا اور ایک حقیقی خالہ اور ایک حقیقی ماموں وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔اخیافی چچا علاقی پھوپھی کی وجہ سے محروم ہوں گے۔