اسلام کا وراثتی نظام — Page 189
۱۸۹ سے تقسیم کر دیا جائے گا۔پس ١/٦ حصہ میں اخیافی بہن کا حصہ اور علاقی بہن کا حصہ لہذا اخیافی بہن کا کل حصہ اور علاقی بہن کا حصہ = = = -| -| - X + -| - -|3 || X = f = 1/2 + 1/ r = اخیافی بہن کا حصہ ۱/۵ حصہ اس کی بیٹی کو مل جائے گا اور علاتی بہن کا ۴/۵ حصہ اس کے بیٹے بیٹی میں تقسیم ہو گا۔اس لئے اخیافی بہن کی بیٹی کا حصہ علاقی بہن کے بیٹے کا حصہ = علاقی بہن کی بیٹی کا حصہ = ۱۵۰۰ روپے میں اخیافی بہن کی بیٹی کا حصہ ۱۵۰۰ روپے میں اخیافی بہن کے بیٹے کا حصہ ۱۵۰۰ روپے میں علاقی بہن کی بیٹی کا حصہ 1/0 = ۱۵ ۱۵ = = ۱/۵ × ۱۵۰۰ = = × ۱۵۰۰ = = ۳۰۰ روپے ۸/۱۵ = ۸۰۰ روپے ۱۵۰۰ × ۴/۱۵ = ۴۰۰ روپے نوٹ: امام ابو یوسف کی رائے کے مطابق کل جائداد علاقی بہن کی اولاد کو ملے گی۔۲/۳ حصہ بیٹے کو اور ۱/۳ حصہ بیٹی کو۔مثال نمبر ۸ : ذوی الارحام درجہ سوم مقسم دوم ایک میت نے اخیافی بھیجے کی بیٹی ، اخیافی بھانجی کا بیٹا ، علاتی بھتیجی کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ، علاتی بھانجے کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی اور علاقی بھانجی کا ایک بیٹا وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔ان تمام ذوی الارحام کو ایک نقشہ سے ظاہر کیجئے۔