اسلام کا وراثتی نظام — Page 11
تعارف اسلام کا نظام وراثت اپنے اعتدال، توازن اور ترتیب حقوق ، نیز متوفی اور ورثاء دونوں کے جذبات کے احترام کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔دنیا کا کوئی دوسرا نظام وراثت خواہ وہ مذاہب عالم کا پیش کردہ ہو یا نظریاتی حکومتوں کا مرتب کردہ، اسلامی نظام وراثت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اسلامی نظام وراثت میں ہر ایک وارث کے حقوق کو ایسے حسین اعتدال کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے کہ روح انسانی وجد میں آجاتی ہے قرآن پاک اور دین اسلام کی اصل زبان چونکہ عربی ہے اسی لئے جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ اس نظام وراثت کی بے نظیر خوبیوں سے بھی پوری طرح واقفیت حاصل نہیں کر سکتے علاوہ ازیں وارثوں کے حصوں کی تعین کا علم حساب سے گہرا تعلق ہے اور پرانا طریق حساب بڑا مشکل اور پیچیدہ نوعیت کا ہے اس لئے بھی اس نظام کے سمجھنے میں مشکل پیش آ جاتی ہے ان ہر دو مشکلات کو ہمارے عزیز بھائی محترم پروفیسر عبدالرشید صاحب غنی ایم ایس ہی نے بڑی خوبی اور قابلیت کے ساتھ حل کیا ہے اس وقت تک اُردو میں جتنی بھی کتا بیں اسلامی نظام وراثت پر لکھی گئی ہیں وہ پرانی طرز کی اور بہت ہی پیچیدہ ہیں لیکن محترم غنی صاحب نے بڑے آسان اور حسین انداز میں اس مضمون کو واضح کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے آپ کی اس کتاب کو ایک ہزار روپیہ انعام کا مستحق قرار دیا ہے۔عزیز مکرم نے نہایت پیچیدہ مسائل کو اپنی حساب دانی کی مدد سے آسان رنگ میں پیش کیا ہے اور ہر مسئلہ کو متعد د مثالوں سے حل کر کے دکھایا ہے میرے خیال میں یہ مضمون وکلاء اور جج صاحبان کے لئے بڑا مفید اور ان کے روزمرہ کے کاروبار میں ممد و معاون ثابت ہو گا۔اس مضمون کی ترتیب ، اس کے دلائل ، جزیات کی تشریح بے انداز محنت سے کی گئی ہے میں اس قابل قدر سہل المفہوم اور فائدہ بخش کتاب کا تعارف لکھتے ہوئے دلی مسرت محسوس کرتا ہوں اور اس کتاب اور نادر کوشش پر لائق مصنف کی خدمت میں مخلصانہ مبارک باد پیش کرتا ہوں۔فشکر اللہ تعالى سعيه ونفع به خلقه ووسع افادته۔آمين يارب العلمين۔خاکسار ملک سیف الرحمن دار الافتاء ربوه