اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 173 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 173

۲۔بیٹی کے بیٹے کے بیٹے کا حصہ : بیٹی کی بیٹی کے بیٹے کا حصہ ۱۷۳ 1/10 5/10 = 1/0 = = نوٹ : امام ابو یوسف کی رائے کے مطابق یہ حصے علی الترتیب ۲/۵، ۲/۵ اور ۱/۵ ہوں گے۔ان صورتوں کو مورثوں کی تعداد کے لحاظ سے بڑھایا جا سکتا ہے اور طریقہ عمل وہی ہو گا جو کہ دو کے لئے اور تین کے لئے ہے۔ایک مثال اور لے لیجئے جس میں چار مورث ہوں۔اس کے بعد بھی اگر ضرورت ہو تو پھر پانچ ، چھ یا اس سے بھی زیادہ مورثوں کی اولادوں میں یہی طریق عمل اختیار کیا جائے گا۔مثال نمبر ۴ : ایک میت نے ایک بیٹی کے بیٹے کا بیٹا ، دوسری بیٹی کے بیٹے کی بیٹی ، تیسری بیٹی کی بیٹی کا بیٹا اور چوتھی بیٹی کی بیٹی کی بیٹی وارث چھوڑے ہیں۔ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔پہلی پشت دوسری پشت بیٹا ۲/۶ ٢/٦ بیٹا تیسری پشت بیٹا 1/4 بیٹی / بیٹی بیٹا ج یہاں بھی پہلی مثالوں کی طرح دوسری پشت میں ہی درمیانی مورثوں کی جنس میں اختلاف واقع ہو جاتا ہے البتہ یہاں دو مذکر اور دو مونث مورث ہیں انہیں یہیں ان کے شرعی حصہ دے دیں۔پس پہلی بیٹی کے بیٹے کا حصہ دوسری بیٹی کے بیٹے کا حصہ ٢/٠ = ٢/٦ = = دونوں مذکر مورثوں کا مجموعی حصہ == + + +