اسلام کا وراثتی نظام — Page 169
۱۶۹ درمیانی مورث مختلف الجنس ہونے کی صورت میں ترکہ کی تقسیم ایک صورت تو یہ ہے کہ صرف دو دعویدار ہوں ایک مورثوں کے ایک سلسلہ سے دعوی کرتا ہو اور دوسرا دوسرے سلسلے سے۔ایسی صورت میں جہاں درمیانی مورثوں کی جنس مختلف ہو وہاں ( ٹھہر کر ) مرد مورث کو عورت مورث کی نسبت دُگنا حصہ دیا جائے گا۔مرد مورث کو جو حصہ دیا جائے وہ اس دعویدار کو ملے گا جو اس مرد کے ذریعہ دعویٰ کرتا ہے اور جو حصہ عورت مورث کو دیا گیا وہ اس دعوی دار کو ملے گا جو ( عورت ) کے ذریعہ دعویٰ کرتا ہے اس صورت میں خود دعویداروں کی جنس یعنی تذکیر و ثانیت کی تمیز نہیں کی جاتی۔دوسری صورت یہ ہے کہ دو سے زائد دعویدار موجود ہوں اور ہر دعویدار مختلف مورثوں کے سلسلے سے دعویٰ کرتا ہو یا بعض دعویدار ایک سلسلہ سے دعوی کرتے ہوں اور بعض کسی اور سلسلہ سے۔تو اس صورت میں بھی یہی قاعدہ ہے کہ جس پشت میں بھی درمیانی مورثوں کو جنس میں اختلاف واقع ہو وہاں مورث مرد کو مورث عورت سے دوگنا دے دیا جائے اور پھر ان کے حصے ان کی اپنی اپنی اولا دوں میں تقسیم کئے جائیں مگر اس حالت میں ہر مورث کا انفرادی حصہ اس کی اولا د کو اس طرح نہیں ملتا جس طرح پہلی صورت میں مل جاتا ہے۔بلکہ تمام مورث مردوں کا مجموعی حصہ اس اولاد میں جو ان کے ذریعے سے دعویدار بنتی ہیں اور تمام مورث عورتوں کا مجموعی حصہ اس اولاد میں جو ان کے ذریعے سے دعویدار بنتی ہے تقسیم ہوتا ہے اُسی قاعدہ کے ماتحت کہ ایک ہی طبقہ کے وارثوں میں مرد کو عورت سے دگنا حصہ دیا جائے۔اب ان ہر دو صورتوں کو بذریعہ امثال بیان کیا جاتا ہے۔مثال نمبر 1: ایک میت اپنی بیٹی کے بیٹے کی بیٹی اور بیٹی کی بیٹی کا بیٹا چھوڑ کر فوت ہو تو ہر وارث کا حصہ بتاؤ۔