اسلام کا وراثتی نظام — Page 164
۱۶۴ اور عصبات بھی نہ ہوں تو پھر ذوی الارحام کو مل جائے گا۔عصبات کی طرح ذوی الارحام کے بھی چار درجے ہیں اول : متوفی کی وہ اولاد (خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہو ) جو نہ ذوی الفروض میں شامل ہو نہ عصبات میں مثلاً نواسہ، نواسی ، پوتیوں کی اولا دوغیرہ۔دوم: متوفی کے وہ آباؤ اجداد ( خواہ وہ کتنے ہی اوپر درجہ کے ہوں ) جو نہ ذوی الفروض میں شامل ہوں اور نہ ہی عصبات میں مثلاً نانا، باپ کا نانا یعنی دادی کا باپ، ماں کا دادا، ماں کا نانا ، ماں کی دادی وغیرہ۔سوم : متوفی کے والدین کی وہ اولاد جو نہ ذوی الفروض میں شامل ہو اور نہ ہی عصبات میں مثلاً بھانجا، بھانجی بھیجی وغیرہ۔چهارم : متوفی کے دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ آباؤ اجداد کی اولا د مثلاً پھوپھی، خالہ، ماموں وغیرہ۔نوٹ : ذوی الارحام میں میراث تقسیم کرتے وقت متوفی کی اپنی اولاد کو اس کے آباؤ اجداد پر ، آباؤ اجداد کو اس کے والدین کی اولاد پر اور اس کے والدین کی اولا د کو اس کے دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ کی اولاد پر ترجیح دی جاتی ہے یعنی پہلے درجہ کو دوسرے درجہ پر دوسرے درجہ کو تیسرے درجہ پر ، تیسرے درجہ کو چوتھے درجہ پر فوقیت حاصل ہے۔ذوی الارحام میں تقسیم ورثہ کے وقت بھی اَلا قَرُبُ ثُمَّ الأَقْرَبُ کے اصول کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اگر ذوی الارحام ایسے لوگ ہوں جو ذوی الفروض اور ذوی الارحام دونو کی اولادیں ہیں۔تو ذوی الفروض کی اولادکو ذوی الارحام کی اولاد پر ترجیح دی جائے گی اسی طرح اگر عصبات اور ذوی الارحام ہر دو کی اولادیں موجود ہوں تو پھر عصبات کی اولا دکو ذوی الارحام کی اولاد پر فوقیت حاصل ہوگی۔مثلاً اگر کسی میت نے اپنے پیچھے اپنی پوتی کی ایک بیٹی اور نواسی کے دو ا بیٹے چھوڑے ہیں تو اس کا ترکہ تمام کا تمام اس کی پوتی کی بیٹی کو (جو ذوی الفروض کی اولاد ہے ) مل جائے گا۔اور نواسی کے دونو بیٹے ( جو ذوی الارحام کی اولاد ہیں ) محروم رہیں گے۔