اسلام کا وراثتی نظام — Page 148
۱۴۸ ذوی الفروض اور عصبات کی توریث کے اصول کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے ورثاء میں پانچ کس ایسے ہیں جنہیں وراثت سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ملتا ہے وہ کسی حالت میں کسی وارث سے بھی بکلی محجوب نہیں ہوتے اور وہ یہ ہیں:۔والد، والدہ، زوجہ، خاوند، اولاد ( بیٹے بیٹیاں) ان پانچ ورثاء کو ”اصلی وارث کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ان کے علاوہ تین اور وارث ہیں جو ان مذکورہ بالا وارثوں کی عدم موجودگی میں وارث قرار پاتے ہیں اس لئے یہ تین وارث ان کے قائم مقام کہلاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔دادا۔خواہ وہ کتنے ہی اوپر درجہ کا ہو۔دادی۔(جد صحیحہ ) خواہ وہ کتنے ہی اوپر درجہ کی ہو۔اولاد۔خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہو۔خاوند اور بیوی کا قائمقام کوئی اور وارث نہیں ہوسکتا۔= والد، ،والدہ خاوند بیوی اولاد اصلی وارث قائمقام وارث = دادا نانی بیٹے کی اولاد ان قائم مقام وارثوں کا بیان ذوی الفروض اور عصبات کے ضمن میں بالتفصیل آچکا ہے۔اب مثالیں حل کر کے ان کے حق میراث اور حصوں کی مزید تشریح کی جائے گی۔مثال نمبر 1: ایک میت نے صرف دو بیٹے اور ایک بیٹی وارث چھوڑے اس نے اپنی زندگی میں کل جائداد کے ۱/۱۰ حصہ کی وصیت ایک انجمن کے حق میں کی ہوئی تھی۔اگر اس کی جائداد ۵۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔وصیت کا حصہ باقی = = = یہ ۹/۱۰ حصہ پہلے ذوی الفروض میں تقسیم ہوگا اور جو کچھ اس سے بیچ رہے وہ عصبات میں تقسیم ہو گا۔اس مثال میں ذوی الفروض کوئی بھی نہیں۔بیٹی بیٹے کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہے اس لئے یہ باقی ترکہ عصبات میں تقسیم کر دیا جائے گا۔(اس طرح کہ بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ )