اسلام کا وراثتی نظام — Page 144
۱۴۴ اس کی حالت بعینہ حقیقی چچا کے پوتے کی مانند ہے یہ خود حقیقی چچا کے پوتے کے سامنے محروم ہے کیونکہ حقیقی چچا کے پوتے کو علاتی چچا کے پوتے کی نسبت زیادہ قوت قرابت حاصل ہے۔اس ( علاتی چچا کے پوتے) کے سامنے حقیقی و علاقی چا کے پڑپوتے محروم ہیں۔کیونکہ یہ (ہوتا) متوفی سے زیادہ قریب ہے بہ نسبت پڑپوتے کے۔اسی طرح اس کے بعد حقیقی چچا کے پڑپوتے اور پھر علاتی چا کے پڑپوتے وغیرہ کا نمبر آتا ہے، لیکن وہ اسی وقت میراث سے حصہ پاسکتے ہیں جب ان سے زیادہ قوت قرابت والے عصبات موجود نہ ہوں۔اگر کسی میت کے دادا کی اولا دبھی موجود نہ ہو۔تو پھر اس کے پڑدادا کی اولا د دیکھی جائے۲ گی یعنی میت کے باپ کے حقیقی چچا اور علاتی چا اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو پھر حقیقی چچا یا علاقی چا کی اولا د وارث ہوگی اور ترتیب حق میراث وہی ہوگی جو دادا کی اولاد میں اوپر بیان ہو چکی ہے۔یہ تمام لوگ درجہ چہارم میں ہی شمار کئے جاتے ہیں نیچے ان کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، لیکن اختصار کے ساتھ باپ کے حقیقی چا ( یعنی دادا کا بھائی ) جب مذکورہ بالا عصبات میں سے بھی کوئی بھی موجود نہ ہوں تو پھر یہ (باپ کا حقیقی چا ) ذوی الفروض سے بچا ہوا ترکہ حاصل کرتا ہے۔اگر یہ تعداد میں دو یا دو سے زائد ہوں تو پھر یہ سب میراث میں برابر کے حقدار ہوتے ہیں۔باپ کا علاقی بھائی باپ کے حقیقی چچا کے نہ ہونے کی صورت میں اس کا قائم مقام ہے۔باپ کے حقیقی چا کے سامنے خود محروم ہے اور اپنے سے نیچے والوں کو محروم کر دیتا ہے۔میت کے باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا اور علاقی چا کا بیٹا یعنی میت کے باپ کا حقیقی چا زاد بھائی اور میت کے باپ کا علاتی چچا زاد بھائی۔جب ان سے اوپر کے درجہ والے عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر میت کے باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا یا بیٹے باقی ماندہ ترکہ کے وارث ہوں گے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو پھر علاقی چا کا بیٹا یا بیٹے باقی ماندہ ترکہ کے برابر کے حصہ دار ہوں گے اگر یہ بھی موجود نہ ہوں تو پھر