اسلام کا وراثتی نظام — Page 129
۱۲۹ کر لیں گے اگر میت مرد ہے اور اس کی پہلی بیوی سے دو بیٹے دوسری سے تین بیٹے اور تیسری سے ایک بیٹا تو ترکہ ان تمام بیٹوں میں مساوی طور پر تقسیم ہو گا۔اسی طرح اگر میت عورت ہے اور اس کے موجودہ بیٹے مختلف خاوندوں سے ہیں۔تو یہ تمام بیٹے اپنی والدہ کے ترکہ میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔اس بات کی تمیز نہیں کی جاتی کہ کوئی بیٹا کس خاوند سے ہے یا کس بیوی سے ہے۔سب کو برابر حصہ دیا جاتا ہے مثلاً اگر پہلی زوجہ سے کسی متوفی کے چھ بیٹے ہوں اور دوسری سے دو بیٹے ہوں تو باقی ماندہ ترکہ کے آٹھ حصے کر کے ہر ایک کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے گا۔یہ نہیں ہو گا کہ باقی ماندہ ترکہ کے دو برابر حصے کئے جائیں اور ایک حصہ پہلی بیوی کے چھ بیٹوں کو دیا جائے اور دوسرا حصہ دوسری بیوی کے دو بیٹوں کو دیا جائے۔ایک مورث کے تمام بیٹے خواہ وہ کسی بھی خاوند سے ہوں یا کسی بھی بیوی سے ہوں باقی ماندہ ترکہ میں برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔مثال نمبر 1 ایک میت نے والد، والدہ ، بیوی اور دو بیٹے چھوڑے اگر اس کا ترکہ قابل تقسیم مابین ورثا ۴۸۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔۱۳ ۲۴ ۳+۴+۴ - ۱= ( + + ۲۴ 3/ ۴۸۰۰ × پا = ۸۰۰ روپے ۴۸۰۰× پا = ۸۰۰ روپے = ۲۰۰ روپے Δ = = × ۴۸۰۰ = ۱۷۴۸۰۰ = ۱۳۰۰ روپے = 1/4 = حل والد کا حصہ 1/4 والدہ کا حصہ = ١/٦ +) - = = بیوی کا حصہ باقی اس لئے دو بیٹوں کا حصہ ایک بیٹے کا حصہ ۴۸۰۰ روپے میں والد کا حصہ ۴۸۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ ۴۸۰۰ روپے میں بیوی کا حصہ ۴۸۰۰ روپے میں ہر لڑکے کا حصہ