اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 127 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 127

۱۲۷ چہارم پر۔گویا درجہ اول کے عصبات میں سے اگر کوئی موجود ہے تو وہ درجہ دوم اور اس۔نچلے درجوں کے تمام عصبات محروم کر دے گا۔اسی طرح درجہ دوم کا عصبہ، درجہ سوم کے عصبات کو، اور درجہ سوم کا عصبہ درجہ چہارم کے عصبات کو محروم کر دے گا۔مثلاً اگر کسی میت کا کوئی پوتا موجود ہو جو درجہ اول کا عصبہ ہے تو وہ بطور عصبہ میت کے باپ، دادا بھائی، چچا وغیرہ سب کو محروم کر دے گا اور باقی ماندہ تر کہ خود حاصل کر لے گا۔اگر ایک ہی درجے کے کئی عصبات موجود ہوں تو پھر اُن میں قوت قرابت دیکھی جاتی ہے۔جس کی قوت قرابت زیادہ ہوگی وہی حق دار ہو گا مثلاً فرض کیجئے کہ ایک میت کے بیٹے اور پوتے بطور عصبہ وارث موجود ہیں اب یہ دونوں ہیں تو مساوی الدرجہ لیکن بیٹے کی قوت قرابت به نسبت پوتے کے زیادہ ہے۔اس لئے باقی ترکہ بیٹے حاصل کر لیں گے اور پوتے محروم ہوں گے۔اسی طرح اگر کسی میت کے ورثاء میں نہ پہلے درجہ کا نہ ہی دوسرے درجہ کا کوئی عصبہ موجود ہے تیسرے درجہ کے عصبات میں بھائی، بھائی کا بیٹا اور بھائی کا پوتا موجود ہیں تو اس صورت میں بھائی بطور عصبہ باقی ترکہ حاصل کر لے گا۔کیونکہ تمام مساوی الدرجہ تو ہیں۔لیکن اس تیسرے درجہ میں بھائی کی قوت قرابت سب سے زیادہ ہے اس لئے باقی ماندہ تر کہ اس حال میں بھائی حاصل کرے گا۔اور بھتیجے محروم ہو جائیں گے۔بعض دفعہ درجہ اور قوت قرابت بھی ایک جیسی نظر آتی ہے تو اس وقت جہت کو دیکھ لینا چاہئے۔جس کی تعداد جہت زیادہ ہوگی۔اس کی قوت قرابت بھی زیادہ سمجھی جائے گی۔مثلاً میت کے حقیقی بھائی اور علاقی بھائی اگر بطور عصبہ موجود ہوں تو باوجود یکہ دونوں ایک ہی درجہ اور قوت قرابت کے عصبہ ہیں۔لیکن چونکہ متوفی سے حقیقی بھائی کا تعلق دو جہت سے ہے یعنی باپ اور ماں دونوں کی طرف سے اور علاتی بھائی کا تعلق ایک جہت سے ہے یعنی صرف باپ کی طرف سے۔اس لئے حقیقی بھائی کی قوت قرابت زیادہ ہے علاتی بھائی سے۔لہذا حقیقی بھائی کے سامنے علاقی بھائی محروم ہو گا اور ذوی الفروض کو حصے دینے کے بعد باقی ماندہ ترکہ حقیقی بھائی کومل جائے گا۔اسی طرح حقیقی چچا کے سامنے علاقی چا اور حقیقی بھیجا کے سامنے علاقی بھتیجے محروم رہیں گے۔علی ہذا القیاس۔