اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 126 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 126

عصبہ نفسہ کی اقسام عصبه بنفسہ میں جس رشتہ دار کی قرابت زیادہ نزدیکی ہے اسے میراث میں مقدم کیا جائے گا اور ہر وارث کو الاقْرَبُ ثُمَّ الْاَقْرَبُ کے اصول کے تحت درجہ دیا جائے گا۔لہذا ا درجہ اول کا عصبہ وہ ہے جو متوفی کا اپنا جز یعنی اس کی اپنی نسل ہو جیسے بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ ان میں سے سب سے پہلے وراثت کا حقدار بیٹا ہے کیونکہ وہ قرابت کے لحاظ سے متوفی کے سب سے زیادہ نزدیک ہے پس وہ بہ نسبت پوتے کے وراثت کا زیادہ حقدار ہے۔اسی طرح سے پوتا زیادہ قریب ہے بہ نسبت پڑپوتے کے علی ہذا القیاس اگر وراثت کے بیان میں قرابت کی نزدیکی کو قوت قرابت سے موسوم کریں تو بیٹے کی قوت قرابت درجہ اول میں سے زیادہ ہے۔اس لئے بیٹے کی موجودگی میں پوتے ، پڑپوتے وغیرہ محروم ہوں گے۔اور پوتے کی موجودگی میں پڑ پوتے محروم ہوں گے۔۲۔درجہ دوم کا عصبہ میت کی اصل ہے۔جیسے باپ، دادا، پڑدادا وغیرہ اس درجہ میں باپ کی قوت قرابت سب سے زیادہ ہے۔اس لئے باپ کی موجودگی میں دادا محروم ہوگا اور دادا کی موجودگی میں پڑدادا محروم ہوگا۔۳۔درجہ سوم کا عصبہ متوفی کے باپ کے جز ہے یعنی باپ کی نسل مثلاً بھائی، بھائی کا بیٹا ( بھتیجا) بھتیجا کا بیٹا ، بھتیجا کا پوتا وغیرہ۔۴۔درجہ چہارم کا عصبہ متوفی کے دادا کا جز ہے۔یعنی دادا کی نسل ، پھر اس کی نسل کی نسل یعنی چا، چا کا بیٹا ، چا کا پوتا ، چچا کا پڑپوتا وغیرہ۔عصبات میں تقسیم ترکہ کے وقت الْاَقْرَبُ ثُمَّ الاقْرَب کے اصول کو مد نظر رکھا جاتا ہے اس لئے سب سے پہلے باقی ماندہ تر کہ اُن عصبات میں (یا عصبہ ) میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کی قوت قرابت سب سے زیادہ ہو۔گویا عصبات کو حصہ دیتے وقت درجہ کا اور قوت قرابت کا خیال رکھا جائے۔مثلاً اگر متعدد عصبات ہوں اور وہ مختلف درجوں کے ہوں اور مختلف قوت قرابت رکھتے ہوں تو ترکہ اعلیٰ درجہ کے عصبات میں تقسیم کیا جائے گا۔یعنی درجہ اول کو درجہ دوم پر فوقیت حاصل ہو گی۔درجہ دوم کو درجہ سوم پر۔اور درجہ سوم کو درجہ