اسلام کا وراثتی نظام — Page 100
پانے کی صرف دو ہی صورتیں ہیں۔جو اخیافی بھائی کے حصہ کے بارے میں بھی بیان ہو چکی ہیں اور وہ یہ ہیں۔الف۔اگر صرف ایک اخیافی بہن ہو تو وہ میت کے ترکہ سے چھٹا (۱/۶) حصہ حاصل کرے گا۔اگر دو یا دو سے زیادہ اخیافی بہنیں ہوں یا اخیافی بہن بھائی ملے جلے ہوں تو یہ سب کل ترکہ کا ۱/۳ حاصل کریں گے اور سب اس ۱/۳ میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔اس ۱/۳ حصہ کو تقسیم کرتے وقت اخیافی بہن بھائیوں میں تذکیر و تانیث کی تمیز نہیں کی جاتی اب چند مثالیں بیان کی جاتی ہیں جن سے مختلف حالات میں بہنوں ( عینی ، علاقی ، اخیافی) کے حصوں کی تشریح ہو جائے گی۔مثال نمبر ۳۴ ایک میت نے والدہ، دو حقیقی بہنیں ، ایک علاتی بہن اور ایک اخیافی بہن ورثاء چھوڑے اگر اس کا ترکہ قابل تقسیم ما بین ورثاء۳۶۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔والدہ کا حصہ دو حقیقی بہنوں کا حصہ = 1/4 ۲/۳ ( کیونکہ بیٹی پوتی وغیرہ کوئی نہیں) اخیافی بہن کا حصہ 1/4 = علاتی بہن محروم ( کیونکہ حقیقی بہن کی وجہ سے محجوب ہو جاتی ہے) ۳۶۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ = ۳۶۰۰ × + = ۶۰۰ روپے ہر ایک حقیقی بہن کا حصہ = ۳۶۰۰ × = x = ۲۰۰ روپے اخیافی بہن کا حصہ = ۳۶۰۰ × = = ۲۰۰ روپے مثال نمبر ۳۵: ایک میت نے اپنے پیچھے تین علاقی بہنیں اور دو اخیافی بھائی اور ایک اخیافی بہن چھوڑی اس کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتائیے۔تین علاقی بہنوں کا حصہ ۲/۳ =