اسلام کا وراثتی نظام — Page 99
۹۹ الف۔اگر میت کے کوئی بیٹی ، پوتی ، پڑپوتی یا حقیقی ہمشیرہ موجود نہیں اور صرف ایک علاقی ہمشیرہ ہے تو پھر یہ (حقیقی ہمشیرہ کی طرح) نصف حصہ حاصل کرے گی۔اگر ایک سے زائد علاقی بہنیں موجود ہوں تو پھر یہ سب کل ترکہ کے ۲/۳ حصہ کی حقدار ہوں گی۔جسے باہم برابر برابر تقسیم کر لیں گی۔اگر میت کی بیٹی ، پوتی یا پڑ پوتی خواہ ایک یا زیادہ موجود ہوں اور حقیقی ہمشیرہ کوئی نہ ہو تو پھر یہ عصبہ بن جاتی ہے اور ذوی الفروض کو ان کے حصے ادا کرنے کے بعد جو بیچ جاوے وہ اسے دے دیا جاتا ہے (جیسا کہ حقیقی بہن عصبہ بن کر حاصل کرتی ہے ) ج۔اگر میت کی بیٹی، پوتی، پڑپوتی کوئی بھی موجود نہیں ایک ہمشیرہ حقیقی اور ایک علاقی بہن موجود ہے تو حقیقی بہن کو نصف (۱/۲) اور علاتی بہن کو سدس (۱/۶) حصہ دیا جاتا ہے۔اگر ایک سے زیادہ علاقی بہنیں ہوں تو پھر یہ سب اسی ١/٦ حصہ میں برابر کی شریک ہوں گی۔اگر میت کی علاتی بہنوں کے ساتھ علاتی بھائی بھی موجود ہوں خواہ ایسا بھائی ایک ہی ہو ( یا زیادہ ہوں ) تو پھر یہ بہنیں اپنے بھائی کے ساتھ مل کر عصبہ بالغیر بن جاتی ہیں اور ذوی الفروض کو اُن کے حصے ادا کرنے کے بعد جو کچھ باقی بچے للذكر مثل حظ الانثیین کے تحت ان میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔نوٹ : جو بھائی انہیں عصبہ بناتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ میت کا ان کی طرح ہی علاتی بھائی ہوا گر کوئی حقیقی بھائی موجود ہے تو پھر یہ علاتی بہنیں سب محروم رہیں گی اور اگر کوئی اخیافی بھائی ہے تو نہ وہ خود عصبہ ہو گا اور نہ ہی کسی کو عصبہ بنا سکے گا۔علاقی بہن حقیقی ہمشیرہ کی قائم مقام ہے اس لئے حقیقی ہمشیرہ کے حصے کی مثالیں علاقی ہمشیرہ کے لئے بھی کافی ہیں۔مزید مثالیں حل کرنے کی ضرورت نہیں۔اخیافی بہن کا حصہ اخیافی بہن بھائی اس وقت جائداد سے حصہ پاتے ہیں جب میت کا بیٹا، بیٹی ، پوتا ، پوتی ، باپ، دادا، پڑدادا وغیرہ کوئی بھی موجود نہ ہو ایسی بہنوں کے لئے میراث میں حصہ