اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 98 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 98

۹۸ ایک بہن کے ( وراثتی حصوں کے متعلق پوچھا گیا۔تو انہوں نے جواب دیا کہ آدھا بیٹی کا اور آدھا بہن کا ( حصہ ) ہے ( یعنی پوتی محروم رہے گی ) اور (بے شک ) ابن مسعودؓ کے پاس جاؤ۔وہ ضرور میری (بات کی ) تصدیق کریں گے۔چنانچہ ابن مسعود سے ( بھی یہی مسئلہ ) دریافت کیا گیا اور حضرت ابو موسی کے جواب سے بھی انہیں آگاہ کیا گیا۔تو انہوں نے (یعنی ابن مسعودؓ نے) فرمایا کہ تب تو میں گمراہ ہوں گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ( شمار ) نہ ہوں گا۔(یعنی) اگر میں ابوموسی کے فیصلہ سے اتفاق کروں۔سو میں تو اس بارہ میں وہی فیصلہ دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔کہ بیٹی کا نصف (حصہ ترکہ کا ) اور پوتی کا چھٹا ( حصہ ہے ) جب حضرت ابو موسی سے حضرت ابن مسعودؓ کے فیصلہ کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ جب تک یہ عقل مند تم میں موجود ہے۔مجھ سے ( کچھ ) نہ پوچھنا۔“ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر ایک بیٹی یا ایک بیٹی اور ایک پوتی کے ساتھ حقیقی ہمشیرہ موجود ہو تو پھر وہ عصبہ بن جاتی ہے اور ذوی الفروض کو اُن کے حصے دینے کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے وہ اسے دیا جاتا ہے اسی طرح اگر ایک پوتی اور پڑپوتی کے ساتھ ہمشیرہ موجود ہو تب بھی وہ عصبہ بن جائے گی۔۱۰۔علاقی بہن کا حصہ علاقی ہمشیرہ جن کی تعریف پہلے بھی کئی بار کی جا چکی ہے ان بہنوں کو کہتے ہیں جن کی ماں مختلف ہوں۔یعنی وہ صرف باپ کی طرف سے نسب میں اشتراک رکھتی ہوں اگر کسی میت کی حقیقی ہمشیرہ موجود نہ ہو علاتی ہو تو پھر علاتی بہن حقیقی ہمشیرہ کی قائم مقام ہوتی ہے۔حقیقی بہنوں یا حقیقی بھائی کے سامنے تمام علاتی بہن بھائی محروم رہتے ہیں۔علاتی بہن صرف بیٹی ، پوتی کی موجودگی میں عصبہ ہوتی ہے یا علاتی بھائی کے ساتھ مل کر عصبہ بالغیر بنتی ہے۔چنانچہ مختلف حالات میں اس کے حصے یہ ہیں۔