اسلام کا وراثتی نظام — Page 97
لا 1/A 1/4 = = 1/F = ۱۲+۴+۳ - ۱ = ( T + ۲۴ ۲۴ ۶ + زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ بیٹی کا حصہ = باقی دگنا ملے۔یه ۲۴/ ۵ حصہ دو بھائیوں اور ایک بہن میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ بھائی کو بہن۔۲۴ اس لئے ۵/۲۴ میں ایک بھائی کا حصہ = x = = = اور ۵/۲۴ میں ایک بہن کا حصہ = x 1 = ۲۴ ۵ ۲۴ ۲۴ ۱۲ ނ اس لئے اگر جائداد کے ۲۴ حصے کئے جائیں تو زوجہ کو تین حصے والدہ کو ہم حصے بیٹی کو ۱۲ حصے اور ہر بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔ترکہ کی تقسیم کرتے وقت یا درکھئے کہ حقیقی ہمشیرہ یا ہمشیرگان کو اسی وقت حصہ ملے گا جب کہ میت کے باپ دادا، پڑدادا ، یا بیٹا ، پوتا پڑ پوتا وغیرہ موجود نہ ہوں اگر ان میں سے کوئی بھی موجود ہو تو یہ میراث سے محروم رہیں گی اب وہ حدیث درجہ ذیل کرتا ہوں جس سے رض ہمشیرہ کا عصبہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔عَنْ هُزَيْل ابن شُرَجُدِيلَ قَالَ سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَّ ابْنَةِ ابْنِ وَ اُخْتِ فَقَالَ لِاِبْنَةِ النِّصْفُ وَلِلْاحُتِ النِّصْفُ وَائْتِ بُنَ مَسْعُودٍ فَسَيْتَا بِعُنِى فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَّ أُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ۔أَقْضِي فِيهَا بما قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَةِ النِّصْفُ وَلَابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ تَحْمِلَةَ الظُّلُتَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلْلْاخُتِ فَأُخْبِرَ أَبُو مُوسَى بِقَولِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَا تَسْتَلُوفِي مَادَامَ هَذَا الْحِبُرُ فِيكُمْ۔(بخاری کتاب الفرائض) ہریل بن شرجیل کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسی سے ایک بیٹی ایک پوتی اور