اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 96 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 96

۹۶ مثال نمبر ۳۲: ایک میت نے خاوند، پوتی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ ؟ 1/F = = خاوند کا حصہ پوتی کا حصہ و حقیقی ہمشیرہ (عینی ہمشیرہ) کا حصہ الف۔اگر میت کے بیٹے ، بیٹی ، پوتے ، پوتی وغیرہ میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو اور نہ باپ دادا ہوں صرف ایک ہمشیرہ حقیقی ہو تو وہ ترکہ کا نصف ۱/۲ حصہ لیتی ہے۔اگر میت کے بیٹے ، بیٹی ، پوتے پوتی وغیرہ میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو نہ باپ دادا ہوں البتہ دو یا دو سے زائد حقیقی ہمشیرہ ہوں تو پھر وہ ترکہ کا ۲/۳ حصہ لیتی ہیں جسے باہم برابر برابر تقسیم کر لیتی ہیں۔ج۔اگر میت کی بیٹی ، پوتی ، پڑپوتی اور سکڑ پوتی (ایک یا ایک سے زیادہ) ایک حقیقی ہمشیرہ اور بعض ذوی الفروض موجود ہوں ، لیکن باپ دادا نہ ہوں تو اس صورت میں ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ میت کی ہمشیرہ کو مل جائے گا۔کیونکہ اس صورت میں یہ عصبہ بن جاتی ہے۔مثلاً ایک میت نے زوجہ ، بیٹی اور حقیقی ہمشیرہ اپنے ورثاء چھوڑے تو زوجہ کو ۱/۸ بیٹی کو ۱/۲ اور باقی ۱+ 1- = ہمشیرہ کومل جائے گا۔اسی طرح اگر بیٹی نہ ہو۔پوتی یا پڑپوتی ہو تب بھی باقی ماندہ حصہ ہمشیرہ کومل جائے گا۔اگر میت کے کوئی حقیقی بھائی بھی حقیقی بہن کے ساتھ موجود ہوں تو پھر یہ بہن بھائیوں کے ساتھ عصبہ بن جائے گی۔اور ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے اسے یہ بہن بھائی للذكر مثل حظ الانثیین کے تحت آپس میں تقسیم کر لیں گے۔مثال نمبر ۳۳: Л ایک میت نے زوجہ، والدہ، ایک بیٹی ایک حقیقی ہمشیرہ اور دو حقیقی بھائی اپنے ورثاء چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ ا یہ شق کی مثال ہے۔باقی شقوں کی مثالیں پہلے آچکی ہیں۔