اسلام کا وراثتی نظام — Page 95
۹۵ باقی = 1 + + + + + ) = 1- ۱۳ ایک پوتے کا ۴+۴+۳ ۲۴ -1=(4+ ۲۴ = عصبہ میں تقسیم ہو گا۔اس طرح کہ ہر پوتے کو دو حصے اور پڑپوتی کو ایک حصہ اس لئے ۱۳ ۲۴ میں حصہ میں حصہ ایک پوتے کا میں ایک پوتی کا ﷺ میں حصہ = = ۱۳ === ۱۳ ۲۴ = ۱۳ × ۲۴ = ۷۲۰۰ روپے میں زوجہ کا حصہ = ۷۲۰۰ × ۱/۸ = ۹۰۰ روپے ۲۰۰ ۷ روپے میں والد کا حصہ = ۷۲۰۰ × ۱/۲ = ۱۲۰۰ روپے ۲۰۰ ۷ روپے میں والدہ کا حصہ = ۷۲۰۰ ×۱/۶ = ۱۲۰۰ روپے ۲۰۰ ۷ روپے میں ایک پوتے کا حصہ = ۷۲۰۰ × ۱/۱۲ = ۲۰۰ روپے ۷۲۰۰ روپے میں ایک پوتی کا حصہ = ۷۲۰۰ × = ۷۲۰۰ × ۱/۲۴=۳۰۰ روپے نوٹ : اگر پوتا موجود نہ ہو پڑ پوتا موجود ہو تب بھی پوتیاں پڑپوتے کی وجہ سے عصبہ بن جاتی ہیں اور تقسیم اسی طریق سے ہوتی ہے کہ مرد کو دگنا اور عورت کو اکہرا حصہ ملتا ہے۔مثال نمبر ۳۱ : ایک میت نے زوجہ ، والدین، تین پوتیاں اور ایک پڑپوتا وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔زوجہ کا حصہ والد کا حصہ والدہ کا حصہ = 1/4 1/4 = باقی = 1 +++ + + = 1 = ۲۴ پوتیاں پڑپوتے کی وجہ سے عصبہ ہوں گی۔اس لئے یہ ۱۳/۲۴ حصہ ان میں ۲:۱ کی نسبت سے تقسیم ہو گا پس پڑپوتے کا حصہ ہر پوتی کا حصہ ۱۲۰ = ۲۴ = ۱۳ ۲۴ = x ۱۲۰ = اگر جائیداد کے ۱۲۰ سہام کئے جائیں تو زوجہ ۵ اسہام، والد کو ۲۰ سہام والدہ کو ۲۰ سہام پڑپوتے کو ۲۶ سہام اور ہر پوتی کو۱۳ سہام ملیں گے۔