اسلام کا وراثتی نظام — Page 69
۶۹ ۳۔پوتی اور نواسی کا خاوند پوتی کا میراث میں حصہ ہے۔لیکن پوتی کے خاوند کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ (خاوند) میت کا پوتا یا نواسہ بھی ہو۔اسی طرح نواسی کا میراث سے تعلق ہے۔مگر نواسی کے خاوند کا کچھ تعلق نہیں۔سوائے اس کے کہ وہ میت کا پوتا یا نواسہ بھی ہو۔۴۔پھوپھا خالو کا حصہ پھوپھی اپنے بھتیجوں کی وارث ہے اور بھتیجے اس کے وارث ہیں۔لیکن پھوپھی کے خاوند ( پھوپھا ) کو اپنی بیوی کے بھتیجوں کی وراثت سے کوئی تعلق نہیں اسی طرح خالو کو بھی اپنی بیوی کے بھانجوں کی وراثت سے کوئی تعلق نہیں۔البتہ کسی اور جہت سے وارث ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔-۵ خدمت گزاری غمخواری اور مالی امداد کسی کو کسی کا وارث نہیں بنا دیتی بعض لوگ اپنی ناواقفیت کی بناء پر اپنے مخلص خدمت گزاروں غمخواروں یا مالی طور پر امداد کرنے والوں کو شرعی وارث سمجھ لیتے ہیں۔یہ درست نہیں۔شرعی وارث وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دیئے ہیں۔ہاں اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کو اپنی جائداد سے ضرور کچھ دینا یا دلوانا چاہتا ہے تو اسے اپنے حق وصیت سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے فائدہ اٹھا کر ان کے حق میں وصیت کر دینی چاہئے۔بہتر ہو کہ اس پر عمل درآمد بھی اپنی زندگی میں ہی کروا دے۔۶ کوئی مونہہ بولا بیٹا یا دینی بھائی وارث نہیں ہو سکتا اسلامی احکام وراثت کے نزول کے بعد ہر قسم کے مونہہ بولے یا دینی بھائی اور مونہہ بولے بیٹے ، بھتیجے وغیرہ جائداد سے حصہ نہیں پاتے۔مواخات کا سلسلہ (بھائی بھائی بنانا ) جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد انصار اور مہاجر