اسلام کا وراثتی نظام — Page 31
I مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنِ (سوره نساء آیت ۱۲) مذکورہ وارثوں میں حصوں کی تقسیم وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد ہوگی۔ترکہ کی تقسیم انسان کی رائے پر نہیں چھوڑی گئی بلکہ علیم وحکیم خدا تعالیٰ نے خود وارثوں کے حصے مقرر کر دیئے ہیں۔ابَاؤُكُمْ وَ ابْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًاه (سورة نساء آیت ۱۳) تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ دادوں اور تمہارے بیٹوں میں سے کون تمہارے لئے زیادہ نفع رساں ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض مقرر کیا گیا ہے۔اللہ یقیناً بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے۔۹۔ترکہ میں خاوند کا حصہ الف - وَلَكُمْ نِصْفُ مَاتَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ (سورۃ نساء آیت ۱۳) اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ جائیں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو ان کے ترکہ کا آدھا ) حصہ تمہارا ہے۔فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ (سورة نساء آیت ۱۳) اگر ان کی اولاد موجود ہو تو جو کچھ انہوں نے چھوڑا اس کا چوتھا () حصہ تمہارا ہے۔ج مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ( سورة نساء آیت ۱۲) خاوند کے یہ حصے وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد بچے ہوئے مال میں سے ادا ہوں گے۔۱۰۔بیوی کا حصہ