اسلام کا وراثتی نظام — Page 274
۲۷۴ خنثی کی میراث کا بیان لغت میں خنثی اس شخص کو کہتے ہیں جس میں مرد، عورت دونوں کی علامتیں موجود ہوں۔اگر مرد کی علامتیں غالب ہوں تو اسے مرد تصور کیا جائے گا اور اسے مردوں جیسا حصہ ملے گا۔اگر عورت کی علامتیں غالب ہوں تو اسے عورتوں جیسا حصہ ملے گا اگر دونوں قسم کی علامتیں برابر ہوں تو اس کو وراثتی اصطلاح میں خنثی مشکل کہتے ہیں۔ایسے شخص کے لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کو ترکہ کا کون سا حصہ دیا جائے آیا مرد والا حصہ یا عورت والا حصہ۔اس بارہ میں حضرت امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ خلفی کو ان دونو حصوں میں سے چھوٹا حصہ دیا جائے جو اسے مرد فرض کرنے کی صورت میں یا عورت فرض کرنے کی صورت میں مل سکتے ہوں۔دوسرے لفظوں میں اس کی وہی جنس تصور کی جاوے جس سے لف دوسری جنس تصور کرنے کی نسبت کم حصہ ملتا ہو۔یا کچھ بھی نہ ملتا ہو مثلاً اگر ایک میت کے وارث اس کا ایک لڑکا ، ایک لڑکی اور ایک خنثی ہوں تو ہم سے امام ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق لڑکی تصور کر لیں گے کیونکہ اس طور سے اسے ترکہ کا ۱/۴ حصہ ملتا ہے اگر لڑ کا تصور کریں تو اسے ۲/۵ مل جائے گا۔اس کو اسی صورت میں نسبتا کم حصہ مل سکتا ہے جب اسے لڑکی (عورت) تصور کریں۔لیکن اگر کسی میت کے ورثاء خاوند ، والدہ ، اخیافی بہن اور علاتی خفی ہوں تو اسے ہم مرد تصور کریں گے کیونکہ اس طور پر اسے ترکہ کا ۱/۶ حصہ بطور عصبہ ملتا ہے۔اگر ہم اسے عورت تصور کر لیتے تو پھر یہ ذوی الفروض میں شامل ہو کر ۳/۸ حصہ پا جاتا۔کیونکہ اس صورت میں تقسیم اس طرح ہوتی ہے۔خاوند ۱/۲، والده ۱/۶ ، اخیافی بہن ۱/۶، علاقی خنثی بہن ۱/۲ اور یہ عول کی صورت ہے کیونکہ ان حصوں کا مجموعہ + + + + + + + ۳۱+۱+۳ = A اکائی سے بڑھ جاتا ہے۔اس لئے نسب نما کو شمار کنندہ کے برابر کرنے سے ورثاء کے حصوں کی نسبت علی الترتیب ۳ : ۱ : ۱ : ۳ اور ان نسبتوں کا مجموعہ ۸ بنتا ہے۔اس لئے ان کے حصے یہ ہوں گے۔