اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 271 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 271

۲۷۱ غرقی ، حرقی اور ہدی کی میراث کا بیان ڈوب کر ، جل کر یا دب کر مرنے والوں ( یعنی علی الترتیب غرقی ، حرقی اور ہدی ) کی میراث کے بارہ میں جب کہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کون پہلے فوت ہوا۔اور کون بعد میں تو صحیح طریق یہ ہے کہ ان سب کو ایک ہی وقت کے وفات یافتہ مانا جائے اور کسی کو بھی کسی دوسرے کا وارث قرار نہ دیا جائے۔اس لئے ان میں سے ہر ایک کا ترکہ براہ راست اپنے اپنے ورثاء میں تقسیم ہو گا۔یہی حکم جنگ میں قتل ہونے والوں کے متعلق ہے کہ وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے خواہ ان میں سے بعض کی بعض دوسروں کے ساتھ کتنی ہی گہری رشتہ داری کیوں نہ ہو۔ان کا ترکہ صرف ان کے اپنے اپنے ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق اور زید بن ثابت سے یہی طریق مروی ہے اور امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی بھی اسی مسلک کے قائل ہیں اور یہی مسلک جماعت احمدیہ کا ہے۔مثال : ایک آدمی اپنے بیٹے اور ایک بیٹی کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوا۔گھر پر وہ اپنی بیوی ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو چھوڑ گیا۔دوران سفر حادثہ پیش آ جانے کی وجہ سے یہ تینوں مسافر جان بحق ہو گئے۔بیٹا جو ان کے ہمراہ تھا اس کی دو بیٹیاں اور بیوی موجود ہے اگر اس بیٹے کا ترکہ ۱۲٫۰۰۰ روپے ہواور اس کے والد کا ترکہ ۴۰٫۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک وارث کا حصہ بتاؤ۔والد، بیٹا اور ایک بیٹی ایک ہی حادثہ میں فوت ہوئے اس لئے یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔والد کے ترکہ کی تقسیم جس کے ورثاء بیوی ، دو بیٹے بیٹے کے ترکہ کی تقسیم جس کے ورثاء والدہ، بیوی ، دو بیٹیاں ، دو بھائی اور ایک بہن ہیں۔1/4 1/A = والدہ کا حصہ بیوی کا حصہ اور ایک بیٹی ہیں بیوی کا حصہ باقی /A = 2/A= 1/A - 1 ۱/۸ =