اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 267 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 267

۲۶۷ قبل از ولادت ورثاء کے حصے بیوی کا حصہ والدہ کا حصہ والد کا حصہ 1/A = 1/4 = 1/4 = بعد از ولادت ورثاء کے حصے بیوی، والدہ اور والدہ کے وہی حصے رہیں گے جو پہلے ہیں البتہ باقی (۱۳/۲۴ حصہ) اب دو لڑکیوں اور ایک لڑکے میں تقسیم ہوگا۔باقی = 1 + + + + + = ۲۴ یه ( ۱۳/۲۴ حصہ ) بیٹی اور حمل ( بیٹے ) میں ۲:۱ ۱۳ سے تقسیم ہو گا۔اس لئے بیٹی کا حصہ = x + = بیٹے کا محفوظ حصہ = = = = ۲۴ ۱۳ ۱۳ ۷۲ ۱۳ ۷۲ اس لئے (لڑکے ) کا حصہ == ہر ایک (لڑکی) کا حصہ = ۱۳ ۲۴ ۱۳ ۹۶ ۲۶ ۹۶ یعنی پہلے سے موجودہ بیٹی کا حصہ بقدر ۳۳۸ - ۳۹+۵۲ - ۳ - ۱ ۲۸۸ = مثال نمبر ۱۰: کم ہو جائے گا اس سے یہ حصہ واپس لے کر بیٹے کے محفوظ حصہ میں شامل کیا جائے تو دونو حصوں کی میزان ۱۷ ۱۳ ۲۶ ۱۳+۱۰۴ = + ۲۸۸ ۲۸۸ ۷۲ ۲۸۸ = ۱۳/۳۲ بنی اس میں نومولود بیٹے کو ۲۶/۹۶ اور نومولود بیٹی کو ۱۳/۹۶ حصہ دیا جائے گا۔ایک میت نے والدہ ، والد ، چچا اور ایک حاملہ زوجہ وارث چھوڑے ورثاء نے حمل کو ایک لڑکا تصور کر کے تقسیم تر کہ کر لی۔بعد میں دو تو ام لڑکے پیدا ہوئے ہر دو صورتوں میں ورثاء کے حصے بتائیے۔جبکہ ترکہ کی مالیت ۴۸۰۰۰ روپے ہو۔قبل از ولادت ورثاء کے حصے بعد از ولادت ورثاء کے حصے زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ والد کا حصہ 1/A = 1/4 = 1/4= زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ والد کا حصہ = 1/4 = 1/4 =