اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 264 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 264

مثال نمبر ۵ : ۲۶۴ ایک میت نے والد، بھائی اور حاملہ بیوی وارث چھوڑے۔حمل کولر کا تصور کر کے ترکہ گیا۔بعد میں بچہ مُردہ پیدا ہوا۔دونوں صورتوں میں ہر ایک وارث کا حصہ بتاؤ۔قبل از ولادت تقسیم والد کا حصہ زوجہ کا حصہ 1/4 = 1/A = زوجہ کا حصہ والد کا حصہ بعد از وفات تقسیم = ( کیونکہ اولا دموجود نہیں ) = باقی = ۳/۴ حمل بیٹے کا محفوظ حصہ = باقی = ۱۷/۲۴ (۶/ الطور ذوی الفروض اور ۱۲ ۷ بطور عصبہ کے ) ( بھائی محروم ، بوجہ والد کی موجودگی کے ) ( بھائی محروم کیونکہ بیٹا موجود ہے ) مثال نمبر ۶ : محمد نواز نے اپنی وفات پر اپنی والدہ اور تین بیٹیاں وارث چھوڑے ان کے علاوہ اس کے مرحوم بھائی محمد نیاز کی بیوی بھی موجود ہے۔( جو حاملہ ہے اور جس کی پہلے کوئی اولاد نہیں ) اگر حمل کولڑ کا تصور کر کے ترکہ تقسیم کر لیا جائے تو ہر ایک وارث کے حصے بتائیے؟ نیز والدہ کا حصہ 1/4 = تین بیٹیوں کا حصہ = ۲/۳ اگر بعد میں لڑکی پیدا ہو تو بھی تمام ورثاء کے حصے بتاؤ۔قبل از ولادت ورثاء کے حصے بھتیجی کی ولادت کے بعد ورثاء کے حصے بھائی کے ہاں بیٹی یعنی متوفی کی بھتیجی پیدا ہوئی جو ذوی الارحام میں شامل ہے اس لئے ذوی الفروض کے ہوتے ہوئے وہ محروم رہے گی لہذا یہ رڈ کی صورت بن گئی اور جائداد والدہ اور تین بیٹیوں میں اُن کے حصوں کے تناسب سے تقسیم ہو جائے گی۔یعنی ہے : سے تقسیم ہو گی لہذا ہر ایک کا حصہ ۲/۹ = حمل ( بھتیجے ) کا محفوظ حصہ = باقی ± 9 - 1 = ( + + ) -1= ±)-1= والدہ کا حصہ تین بیٹیوں کا حصہ = M:1 = 1/0 /۵ = مثال نمبرے : اور ہر ایک بیٹی کا حصہ = ۴/۱۵ ایک آدمی کی والدہ ، بھائی ، دو بہنیں ، ایک بیوی اور ایک لڑکی موجود ہیں۔اس نے