اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 253 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 253

۲۵۳ حمل کی میراث اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کی بیوی یا اس کے خاندان کی کوئی ایسی عورت جس کی اولاد کو میت کے ترکہ میں سے حصہ پانے کا حق پہنچتا ہو۔حاملہ ہو تو ان حالات میں بہتر تو یہ ہوتا ہے کہ وضع حمل کا انتظار کر لیا جائے اور اس کے بعد ہی ترکہ تقسیم ہو کیونکہ اولاد پیدا ہونے کی صورت میں یا بچوں کی تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے مختلف رشتہ دار یا تو کلیۂ مجوب ہو جاتے ہیں یا بعض کے حصوں میں کمی ہو جاتی ہے۔اس لئے بعد کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے صحیح صورت حال کا انتظار کر لینا بہتر ہوتا ہے۔لیکن اگر بعض ورثاء اس انتظار میں کچھ حرج یا تنگی محسوس کریں یا یہ ڈر ہو کہ کہیں ترکہ ضائع نہ ہو جائے یا خرد برد نہ ہو جائے تو پھر موجودہ ورثاء ترکہ تقسیم کروا سکتے ہیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وضع حمل کے لئے کتنا عرصہ انتظار کیا جائے۔اور اگر انتظار نہ کیا جا سکتا ہو تو پھر ترکہ میں سے حمل کے لئے کتنا حصہ محفوظ (Reserve) کرنا چاہئے؟ مدت حمل ! مدت حمل کے بارہ میں حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک کم سے کم مدت چھ ماہ بعد از نکاح ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت دو سال بعد از وفات ہے۔یہ خیال رہے کہ کم سے کم مدت حمل ( یعنی چھ ماہ) کے تقرر کا تعلق تقسیم ترکہ کے التوا سے نہیں۔التوا سے صرف زیادہ سے زیادہ مدت حمل کا تعلق ہے۔کم سے کم مدت حمل کے تقرر کی غرض صحت نسب کی جانچ پڑتال ہے مثلاً جو بچہ تاریخ نکاح سے چھ ماہ کے اندر پیدا ہوا اسے شرعا متوفی کی اولا د قرار نہیں دیا جاتا اور نہ ہی وراثت میں شامل کیا جاتا ہے۔اس مدت کا استدلال قرآن پاک کی ان آیات کریمہ سے کیا جاتا ہے۔وَحَمْلُهُ وفِصْلُهُ ثَلْثُونَ شَهْرًا اس (یعنی بچہ ) کے اُٹھانے (حمل قرار پانے) اور اس کا دودھ چھڑانے میں تھیں ماہ (دوسال چھ مہینے ) لگے تھے۔‘ (سورۃ احقاف آیت ۱۶)