اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 252 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 252

۲۵۲ ۵ ۱۲ G = = ۱۰ ۲۴ ۴ + = ۲۴ + = = ۳ ۲۴ ۲ + = +++ = اور لڑکی کا حصہ۔سابقہ زوجہ کے دوسرے متوفی بیٹے کا حصہ قابل تقسیم حصہ ۱۲/ ۵ ہے اور اس کے وارث اس کی اپنی تین بیٹیاں ( پہلے متوفی کی پوتیاں) اور حقیقی بہن ( پہلے متوفی کی بیٹی ) ہیں۔اس لئے علاقی بھائی اور سوتیلی والدہ محروم رہیں گی۔کیونکہ اس متوفی کی اولا دموجود ہے۔چونکہ بیٹیوں کی موجودگی میں ہمشیرہ عصبہ بن جاتی ہے۔اس لئے ۱۲/ ۵ حصہ میں تین بیٹیوں ( پہلے متوفی کی پوتیوں) کا حصہ = اور بہن ( پہلے متوفی کی بیٹی ) کا حصہ ایک بیٹی کا حصہ = = 이르 이드 ۱۸ اس لئے آخری طور پر کل حصے مندرجہ ذیل ہوں گے۔زوجہ کا حصہ 1/A = موجودہ زوجہ کے بطن سے لڑکے کا حصہ = ۱/۴ X +10 ۱۸ ۱۸ II ۳۶ ۵۴ سابقہ زوجہ کے بطن سے لڑکی کا حصہ = + = ۱۵ ۱۰ = اور ہر پوتی کا حصہ ۵/۵۴ = ۳۶ ۲۵ ۷۲ لہذا اگر جائداد کے ۲۱۶ حصے کئے جائیں تو زوجہ کو ۲۷ لڑکے کو ۵۴ لڑکی کو ۷۵ اور ہر پوتی کو ۲۰ حصے ملیں گے۔