اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 17 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 17

۱۷ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کی خاطر ہمیشہ ہمیش کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔سورۃ نساء میں خدا تعالیٰ نے نہایت وضاحت کے ساتھ ترکہ کی تقسیم کے بارہ میں ہدایات بیان فرمائی ہیں اور تمام ورثاء کے حصے مقرر فرما دیئے ہیں جن کی پوری پوری وضاحت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے فرما دی تھی چونکہ یہ علم خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حصوں کے بارہ میں ہے اس لئے اسے علم الفرائض کہا جاتا ہے۔فریضہ کے لفظی معنے ہیں مقرر شدہ۔طے شدہ اور فرائض اس کی جمع ہے۔تقسیم وراثت کا قانون بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو خبر دار کیا کہ ممکن ہے کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ فلاں فرد کا حصہ اتنا کیوں ہے؟ فلاں شخص کا حصہ کیوں نہیں۔فرمایا : - ابَاؤُكُمْ وَ اَبْنَاؤُكُمْ لَاتَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔(النساء : ١٢ ) یعنی تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ دادوں اور تمہارے بیٹوں میں سے کون تمہارے لئے نفع رساں ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض مقرر کیا گیا ہے۔اللہ یقیناً بہت جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسانی عقل اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کونسی چیز اس کے لئے بہتر ہے اس تقسیم یعنی حصوں کی حکمتوں کو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کی رہنمائی کے لئے یہ تعلیم نازل فرمائی ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سیکھنے اور لوگوں کو سکھانے کے لئے تاکید فرمائی ہے۔اور فرمایا ہے کہ یہ نصف علم ہے بہت سے صحابہ کرام نے اس علم کو خوب سیکھا اور دوسروں کو سکھلایا۔اُن میں سے مندرجہ ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ماہرین فن کی حیثیت رکھتے تھے۔ا۔حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۲۔حضرت عمر فاروق خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (عول کا مسئلہ انہی کا ایجاد کردہ ہے)۔حضرت عثمان غنی خلیفہ ثالث رضی اللہ تعالیٰ عنہ