اسلام کا وراثتی نظام — Page 16
17 کسی ایک تعلیم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔فرماتا ہے:۔اَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ بَلْ لَّا يُؤْ مِنُونَ ةَ فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِةٍ إِنْ كَانُوا صِدِقِينَ (الطُّور:۳۵،۳۴) یعنی کیا وہ یہ کہتے کہ یہ کلام اس بندے ( محمد ) نے خود بنا لیا ہے اور یہ اُس کی اپنی کاوش کا نتیجہ ہے فرمایا نہیں۔ایسا نہیں اگر وہ قرآن پر غور کریں تو خود اپنے اعتراض کے بودے پن کو محسوس کر لیں گے اور انہیں اس نظریہ پر کبھی اطمینان قلب حاصل نہیں ہو سکتا کہ نعوذ باللہ کسی انسان نے یہ کلام بنایا ہے اور کسی بشر کی ذہنی کاوش اور عقلی عرق ریزی کا نتیجہ ہے فرمایا اس کا ثبوت ہم یہ دیتے ہیں کہ کوشش کر کے دیکھ لیں ان کو معلوم ہو جائے گا کہ انسان کی عقلی استعداد میں قرآنی تعلیمات کے بلند معیار تک پہنچنے سے قاصر ہیں اور کوئی دانا سے دانا آدمی ساری عمر کی محنت اور کاوش کے بعد بھی کوئی ایسی علمی تحقیق پیش نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی بیان کر دہ باتوں میں سے کسی ایک کا بھی مقابلہ کر سکے۔یہی وراثت کا مسئلہ لے لیجیئے۔دنیا کے تمام حساب دان ملکر کوشش تو کر دیکھیں کہ قرآنی فارمولا کے سوا کوئی ایسا فارمولا دنیا کے سامنے پیش کریں جو تقسیم وراثت کی تمام ممکنہ صورتوں پر حاوی ہو۔اسلامی قانون کی حکمتوں کو چھوڑ دیں صرف ایسی حسابی صورت پیدا کر دیں خواہ وہ کتنی ہی بے حکمت کیوں نہ ہو، لیکن اس میں صرف اتنی خوبی ہو کہ تمام ممکنہ صورتوں پر منطبق ہو سکے۔اگر وہ اس کی کوشش کریں تو انہیں پتا چل جائے گا کہ کتنا عظیم الشان اور کتنا سچا دعوی تھا جو قرآن کریم نے ان الفاظ میں کیا۔فَلْيَا تُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِةٍ إِنْ كَانُوا صِدِقِينَ (الطور : (۳۵) پس اسلام کا قانون وراثت ایک ایسا ہمہ گیر قانون ہے جو وراثت کی ہرممکن صورت پر منطبق ہو جاتا ہے اور ترکہ کی تقسیم کے لئے ایک ایسا کارآمد، مفید اور قابل عمل نظام ہے جس کی نظیر دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔دوسرے ادیان کے مقابلہ میں اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے اور یہ قرآن پاک کا عظیم الشان اعجاز ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کو ایسا نظامِ وراثت دیا جو اُن کے ہر قسم کے مسائل اور ہر قسم کی مشکلات کا حل پیش کرتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن پاک دنیا کے تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور