اسلام کا وراثتی نظام — Page 188
#= Fx # = 22 = = ۱۸۸ اس لئے باقی ۲/۳ حصہ میں حقیقی بھائی کا حصہ حقیقی بہن کا حصہ حقیقی بھائی کا حصہ ۱/۳ حصہ اس کی بیٹی کو مل جائے گا اور حقیقی بہن کا ۱/۳ حصہ اس کی اولاد میں مرد د گنا اور عورت کو کہرا حصہ کے اصول پر تقسیم ہوگا۔لہذا حقیقی بہن کے بیٹے کا حصہ حقیق بہن کی بیٹی کا حصہ = ㅎ نوٹ : امام ابو یوسف کی رائے کے مطابق تمام جائداد صرف حقیقی بہن بھائیوں کی اولاد میں للذكر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہو گی اور اس طرح حقیقی بھائی کی بیٹی کو ۱/۴ حقیقی بہن کے بیٹے کو ۱/۲ اور حقیقی بہن کی بیٹی کو ۱/۴ حصہ ملے گا۔مثال نمبرے : ایک میت نے اخیافی بہن کی ایک بیٹی اور علاتی بہن کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ نیز اگر جائداد قابل تقسیم ما بین ورثاء ۱۵۰۰ روپے ہو تو بیٹا ہر ایک کے حصہ کی رقم بتائیے۔اصل اخیافی بہر بہن علاقی بہن اولاد بیٹی بیٹی اخیافی بہن کی صرف ایک اولاد ہے اس لئے یہ ایک ہی بہن تصور ہوگی اور اخیافی بہن کا حصہ پائے گی یعنی ۱/۶ علاتی بہن کے دو دعویدار ( اولادیں ) ہیں اس لئے علاتی بہن دو بہنوں والا حصہ یعنی (۲/۳) پائے گی۔اس طور سے ۱/۶ حصہ باقی بچ جاتا ہے چونکہ اصول میں کوئی عصبہ موجود نہیں اس لئے یہ باقی ماندہ حصہ بھی اخیافی اور علاتی بہنیں اپنے حصوں کی نسبت کے لحاظ سے حاصل کر لیں گی۔یعنی یہ حصہ بھی انہیں کے درمیان ۱/۲ : ۲/۳ = ۱ : ۴ کے حساب