اسلام کا وراثتی نظام — Page 10
لاہور ۷ ارجون ۱۹۷۱ء مکرمی پروفیسر صاحب السَّلامُ عَلَيْكُمُ آپ کی تصنیف ” بعض بنیادی شرعی حقائق کی بہت عمدہ شرح کرتی ہے۔اس کتاب میں آپ نے ایک ایسے اہم مسئلے پر قلم اٹھایا ہے ، جو اسلامی نظام معاشرت اور دراصل ہر نظام معاشرت میں قدم قدم پر پیدا ہوتا ہے۔مگر یہ شرف اسلام کے حصے میں آیا کہ اُس نے اس مسئلے کا ایسا منصفانہ اور سچاحل پیش کر دیا ، جس میں چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔بلا شبہ اسلامی قانون وراثت قرآن حکیم کا عظیم الشان علمی و معاشرتی معجزہ ہے۔آپ نے قرآن وحدیث کے حوالوں سے اس معجزہ کی تشریح و تفسیر ایسے منطقی اور مربوط انداز میں کی ہے کہ دل بے اختیار مرحبا اور بارک اللہ کہتا ہے۔مسئلہ وراثت پر بحث کرتے ہوئے آپ نے استدلال و استخراج کا عمل اس خوبی سے کیا ہے کہ کتاب کے عام قاری کو بھی اس خاص مضمون میں فقہی بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔اس سلسلے میں آپ نے بالتفصیل ایسے واقعات کا شمار کرا دیا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے مسئلہ وراثت کے کسی نہ کسی پہلو پر فیصلہ کن رائے کا اظہار فرمایا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔یہ کتاب اُردو کے علمی ذخیرہ میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔یہاں ایک دقیق مسئلہ سادہ اور سلیس عبارت میں بیان ہوا ہے اور پڑھنے والے کو بات سمجھنے میں کہیں الجھن نہیں ہوتی۔پھر یہ موضوع ایسا ہے کہ علمی و شرعی اصطلاحات کا بکثرت استعمال ناگزیر تھا لیکن آپ نے اپنے پاکیزہ اسلوب بیان سے ہر اصطلاح کا مفہوم آئینے کی طرح صاف کر دیا ہے۔کتاب کے وہ سب حصے جن میں علمی مباحث کی وضاحت کرنے کے لئے حسابی تفصیلات پیش کی گئی ہیں حد درجہ بصیرت افروز ہیں۔فقط والسلام مخلص پروفیسر حمید احمد خان سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ناظم مجلس ترقی ادب، لاہور