اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 113 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 113

ذوی الفروض کے حصوں کی انفرادی اور اجتماعی صورتیں ہمیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ قرآن پاک میں ذوی الفروض کے کل چھ حصے مقرر ہیں۔وہ یہ ہیں۔ہ ، ہ ، ، ، + اور = ذوی الفروض کی تقسیم میں کبھی یہ انفرادی طور پر آتے ہیں یعنی بعض دفعہ صرف ایک ہی ذوی الفروض ہوتا ہے۔بعض تقسیم ترکہ کے وقت دو یا دو سے زائد ذوی الفروض موجود ہوتے ہیں۔صرف ذوی الفروض کے جمع ہونے کی کل ۶۳ امکانی صورتیں (Possibilities) ہوسکتی ہیں۔گوان میں سے ہر ایک صورت میں مختلف عصبات اور ذوی الارحام کی تعداد کی وجہ سے یہ ان گنت صورتیں بن جاتی ہیں۔بہر حال ان چھ ذوی الفروض میں سے اگر ہم انفرادی صورتیں اور ایسی صورتیں لیں جن میں دو دو، تین تین، چار چار، پانچ پانچ ، چھ چھ کے گروپ بنا ئیں تو یہ تریسٹھ صورتیں یا گروپ بنتے ہیں انہیں اگر حساب کے طریق (Combination) سے حل کریں تو یہ شکل بنتی ہے۔اگر چھ میں سے ایک ایک لیا جائے تو کل چھ بنتے ہیں۔اگر چھ میں سے دو دو لئے جائیں تو پندرہ گروپ بنتے ہیں۔۱۵ = Y! = ~ - C = = TX = 10 !۴ ! Y! ۳×۳ چھ میں سے تین تین لئے جائیں تو ہیں گروپ بنتے ہیں = ۲۰ = چھ میں سے چار چار لئے جائیں تو پندرہ گروپ بنتے ہیں = ۱۵ = اگر چھ میں سے پانچ پانچ لے کر گروپ بنا ئیں تو چھ بنتے ہیں۔= Y! !۴x ! Y! !! Y! ! • XY! ۶۳=۱+۶+۱۵ + ۲۰ + ۱۵ + ۶ اگر چھ کا ہی گروپ بنایا جائے تو ایک بنتا ہے۔اس لئے کل گروپ = ا= 02 ۶ = II +CA