اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 55

اسلامی نقطہ نگاہ سے ناجائز ہیں۔لیکن وہ عمارتیں جو قوم کے لئے یا پبلک کے مفاد کے لئے یا ایسی ہی اور ضروریات کے لئے تیار کی جاتی ہیں وہ خواہ کتنی ہی بلند ہوں جائز کہلائیں گی۔غرض بلا ضرورت اونچی عمارات بنانا، زینت اور تفاخر کے طور پر باغات تیار کروانا، کھانا زیادہ مقدار میں کھانا یا بہت سے کھانے کھانا، لباس وغیرہ پر غیر ضروری رقوم خرچ کرنا، گھوڑے اور موٹریں ضرورت سے زیادہ رکھنا، فرنیچر وغیرہ ضرورت سے زیادہ بنوانا، عورتوں کا لیس اور فیتوں وغیرہ پر زیادہ رقوم خرچ کرنا ان سب امور سے قرآن کریم اور احادیث میں منع کیا گیا ہے اور اس طرح مال کمانے کی ضرورتوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔سیاسی اقتدار کیلئے روپیہ خرچ کرنا اسی طرح مال اور دولت کی وجہ سے کسی کو سیاسی اقتدار دینے سے بھی اسلام نے منع فرما دیا ہے۔میں اس بارہ میں بیان کر چکا ہوں کہ قرآن کریم کا یہ صریح حکم ہے کہ اُن تُوَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا۔کہ تم حکومتیں انہیں لوگوں کے سپر دکیا کرو جوحکومت کے کام کے اہل ہوں محض کسی کے مال یا اُس کی دولت کی وجہ سے اُس کو سیاسی اقتدار دے دینا اسلامی تعلیم کے ماتحت جائز نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مال اور دولت کی وجہ سے نہیں بلکہ اہلیت اور قابلیت کی بناء پر لوگوں کے سپر دحکومتی کام کیا کرو۔پس جولوگ مال و دولت اس لئے جمع کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ہمیں حکومت میں حصہ مل جائے گا یا بڑے بڑے عہدے ہمیں حاصل ہو جائیں گے اسلام اُن کے اس نفع کو بھی ناجائز قرار دیتا ہے اور امت مسلمہ کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ حکام کے انتخاب کے وقت اہلیت کو مد نظر رکھا کریں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ دولت وثروت کی وجہ سے کسی کو سیاسی اقتدار سونپ دیا جائے۔55