اسلام کا اقتصادی نظام — Page 31
کے افراد کو بھی میدانِ جنگ کے علاوہ کسی جگہ سے بعد میں پکڑ نا جائز نہیں ہے۔صرف لڑائی کے دوران میں لڑنے والے سپاہیوں کو یا ان کو جو لڑنے والے سپاہیوں کی مدد کر رہے ہوں پکڑ لیا جائے تو جائز ہوگا کیونکہ اگر اُن کو چھوڑ دیا جائے تو وہ بعد میں دوسرے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں پھر فرماتا ہے تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا اے مسلمانو! کیا تم دوسرے لوگوں کی طرح یہ چاہتے ہو کہ تم غیر اقوام کے افراد کو پکڑ کر اپنی طاقت اور قوت کو بڑھا لو وَاللهُ يُرِيدُ الآخِرَةَ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم دنیا کے پیچھے چلو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں اُن احکام پر چلائے جو انجام کے لحاظ سے تمہارے لئے بہتر ہوں اور اگلے جہان میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کا مستحق بنانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور انجام کے خوشگوار ہونے کے لحاظ سے یہی حکم تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم سوائے جنگی قیدیوں کو جنہیں دورانِ جنگ میں گرفتار کیا گیا ہو اور کسی کو قیدی مت بناؤ گویا جنگی قیدیوں کے سوا اسلام میں کسی قسم کے قیدی بنانے جائز نہیں۔اس حکم پر شروع اسلام میں اس سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک دفعہ یمن کے لوگوں کا ایک وفد آپ کے پاس آیا اور اُس نے شکایت کی کہ اسلام سے پہلے ہم کو مسیحیوں نے ہلا کسی جنگ کے یونہی زور سے غلام بنالیا تھا ورنہ ہم آزاد قبیلہ تھے ہمیں اس غلامی سے آزاد کرایا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گو یہ اسلام سے پہلے کا واقعہ ہے مگر پھر بھی میں اس کی تحقیقات کروں گا۔اگر تمہاری بات درست ثابت ہوئی تو تمہیں فوراً آزاد کرا دیا جائیگا۔لیکن اس کے برخلاف جیسا کہ بتایا جاچکا ہے یورپ اپنی تجارتوں اور زراعتوں کے فروغ کے لئے اُنیسویں صدی کے شروع تک غلامی کو جاری رکھتا چلا گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کی تاریخ سے ایک غیر اسلامی غلامی کا بھی پتہ لگتا ہے مگر پھر بھی 31