اسلام کا اقتصادی نظام — Page 20
رشید ہومگر اب تم حلیم اور رشید بن کر ہم پر رعب جمانا چاہتے ہو ہم تمہارے اس دعوی کو تسلیم نہیں کرتے۔ابتدائے آفرینش سے اموال کے متعلق ایک ہی نظریہ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم نے اموال کے متعلق جو نظریہ پیش کیا ہے وہی پہلے انبیاء کی طرف سے پیش ہوتا چلا آیا ہے۔وہ بنی نوع انسان کو اموال کمانے اور خرچ کرنے میں آزاد نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ اموال سب خدا کے ہیں اور خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف اُن کو خرچ کرنا جائز نہیں ہوسکتا۔قومی ترقی کے لئے غرباء کو ابھارنے کی ضرورت ان اصول کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ اسلام نے اپنی ابتدا میں ہی غرباء کے اُبھارنے اور اُن کی مدد کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔چنانچہ وہ سورتیں جو بالکل ابتدائی زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں جب ان کا مطالعہ کیا جائے تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان ابتدائی سورتوں میں سب سے زیادہ غرباء کو ابھارنے ، اُن کی مدد کرنے اور اُن کو ترقی کی دوڑ میں آگے لے جانے کا ذکر آتا ہے اور مومنوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اگر قومی ترقی چاہتے ہیں، اگر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریق یہی ہے کہ غرباء کی مدد کریں اور اُن کی تکالیف کو دور کرنے کی کوشش کریں۔حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی دوسرے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئے تھے۔ابھی قرآن کریم نے نمازوں کی تفصیل بیان نہیں کی تھی ، ابھی قرآن کریم نے تجارت کے اصول بیان نہیں کئے تھے، ابھی قرآن کریم نے قضاء کے احکام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کئے 20