اسلام کا اقتصادی نظام — Page 145
مال کے مالک ہیں اور زمین کی ناف پر بستے ہیں اپنا ہاتھ چلائے۔سبا اور دوان اور ترسیس کے سوداگر اور اُن کے تمام جوان شیر بر تجھ سے پوچھیں گے کیا تو غارت کرنے آیا ہے؟ کیا تو نے اپنا غول اس لئے جمع کیا ہے کہ مال چھین لے اور چاندی سونا ٹوٹے اور مویشی اور مال لے جائے اور بڑی غنیمت حاصل کرے۔اس لئے اے آدم زاد! نبوت کر اور جوج سے کہہ خداوند خدایوں فرماتا ہے کہ جب میری اُمت اسرائیل امن سے بسے گی کیا تجھے خبر نہ ہوگی؟ اور تو اپنی جگہ سے شمال کی دور اطراف سے آئے گا تو اور بہت سے لوگ تیرے ساتھ جو سب کے سب گھوڑوں پر سوار ہوں گے ایک بڑی فوج اور بھاری لشکر۔تو میری اُمت اسرائیل کے مقابلہ کو نکلے گا اور زمین کو بادل کی طرح چھپالے گا۔یہ آخری دنوں میں ہوگا اور میں تجھے اپنی سرزمین پر چڑھا لاؤنگا تا کہ قومیں مجھے جائیں۔جس وقت میں اے جو ج! ان کی آنکھوں کے سامنے تجھ سے اپنی تنتقد میں کراؤں۔خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ کیا تو وہی نہیں جس کی بابت میں نے قدیم زمانہ میں اپنے خدمت گذار اسرائیلی نبیوں کی معرفت جنہوں نے ان ایام میں سالہا سال تک نبوت کی فرمایا تھا کہ میں تجھے اُن پر چڑھا لا ؤ نگا اور یوں ہوگا کہ اُن ایام میں جب جوج اسرائیل کی مملکت پر چڑھائی کرے گا تو میرا قہر میرے چہرہ سے نمایاں ہوگا۔خداوند خدا فرماتا ہے کیونکہ میں نے اپنی غیرت اور آتش قہر میں فرمایا کہ یقینا اُس روز اسرائیل کی سرزمین میں سخت زلزلہ آئے گا یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور آسمان کے پرندے اور میدان کے چرندے اور سب کیڑے مکوڑے جو زمین پر رینگتے پھرتے ہیں اور تمام انسان جو رؤے زمین پر ہیں میرے حضور تھر تھرائیں گے اور پہاڑ گر پڑیں گے اور کراڑے بیٹھ جائیں گے اور ہر ایک دیوار زمین پر گر پڑے گی اور میں اپنے سب پہاڑوں (145)