اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 133

پر اپنی حریت پوری طرح کھو بیٹھیں گے اور صرف بڑے ملکوں کی چراگاہیں بن کر رہ جائیں گے۔اور جو ملک منظم اور بڑے ہوں گے اُن میں پہلے کی طرح مقابلہ جاری رہے گا صرف فرق یہ ہوگا کہ پہلے تو زید اور بکر کا تجارتی مقابلہ ہوتا تھا آئندہ حکومت کا حکومت سے تجارتی مقابلہ ہوگا۔اگر یہ خیال کیا جائے کہ سب لوگ مل کر ایک با انصاف معاہدہ کرلیں گے تو یہ بھی درست نہیں۔آج کا روس کل کا روس نہیں اور کل کا روس آج کا روس نہ ہوگا۔جب اس کی صنعت و حرفت ترقی کرے گی اور جب اس کی دولت بڑھے گی وہ دوسروں سے اپنی دولت بانٹنے کے لئے تیار نہیں ہوگا بلکہ وہ تو آج بھی تیار نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو وہ ایران کے تیل پر کیوں قبضہ کرنا چاہتا۔روس کا فعل اپنے قول کے خلاف روس کا تھری بگز (THREE BIGS) میں شامل ہونا بھی اُس کے اپنے اصول سے ہٹنے پر دلالت کرتا ہے۔آخر ان تین بڑوں کے علاوہ جو دوسری حکومتیں ہیں وہ کیا چیز ہیں۔سمجھ لو کہ طاقتور آدمی کے مقابل پر کمزور اور غریب آدمی کی حیثیت رکھتی ہیں۔یتیم کیا ہے؟ ایک کمزور اور غریب آدمی۔ہالینڈ کیا ہے؟ ایک کمزور اور غریب آدمی۔روس، انگلستان اور امریکہ کیا ہیں ؟ مضبوط پہلوان اور کڑور پتی تاجر۔اگر روس اپنے اصول میں سچائی پر قائم ہے تو اُسے ان کمزور اور غریب ممالک کے ساتھ ایک ہی صف میں اپنے آپ کو کھڑا کرنا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ ہمارا اصول یہ ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ہم اپنے اور ان کمزور حکومتوں میں کوئی فرق نہیں کرنا چاہتے۔جیسے ہمیں اپنی جان پیاری ہے ویسے ہی ان کو پیاری ہے، جیسے ہمیں اپنے ملک کا فائدہ مدنظر ہے ویسے ہی ان کو مدنظر 133)