اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 126

سلام کا اقتصادی نظام کو آزاد کر دیا ہے، ترکوں کو آرمینیا کا وہ علاقہ جو اُن سے متعلق ہے دے دیا ہے مگر جوں ہی روس کے اندرونی جھگڑے کم ہوئے جار جیا کو روس میں شامل کر لیا گیا۔جب اور طاقت آئی تو فن لینڈ سے سرحدوں کی بحث شروع کر دی اور طاقت پکڑی ولٹویا، لیتھونیا اور استھو نیا کو اپنے اندر شامل کرلیا۔رومانیہ کے بعض علاقوں کو ہتھیا لیا پھر فن لینڈ کو مغلوب کر کے اُس کے کچھ علاقے لے لئے اور باقی ملک کی آزادی کو محدود کر دیا۔اب پولینڈ کا کچھ حصہ لیا جارہا ہے باقی کی آزادی محدود کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ روسی سرحدوں پر وہی حکومت رہ سکتی ہے جو روسی حکومت سے تعاون کرے اور اس اصل کے ماتحت پولینڈ ، زیکوسلواکیہ اور رومانیہ کے اندرونی معاملات میں دخل دیا جارہا ہے۔ایران کے چشموں پر قبضہ کرنے کی سکیم تیار کی جارہی ہے، ترکی سے آرمینیا کے حصوں کی واپسی اور درہ دانیال میں روسی نفاذ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔کیا پرانی امپیریل حکومتیں اس کے سوا کچھ اور کرتی تھیں؟ بلکہ کیا وہ اس سے زیادہ آہنگی اور بظاہر نرم نظر آنے والے طریق استعمال نہیں کرتی تھیں؟ انگلستان کو درہ دانیال کی ضرورت دیر سے محسوس ہو رہی ہے مگر اُس نے صدیوں میں ترکی پر اس قدر زور نہیں ڈالا جس قدر زور روس چند سالوں میں ڈال رہا ہے۔اِن امور کے ہوتے ہوئے یہ خیال کرنا کہ روس اپنی صنعتی ترقی کے بعد اس طرح اپنے ہمسایہ ملکوں کو اقتصادی غلامی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرے گا جس طرح کہ مغربی ڈیما کریسی کے تجار اپنی حکومتوں پر زور ڈال کر اُن کے ذریعہ سے دوسرے ملکوں کو مجبور کرتے ہیں ایک وہم نہیں تو اور کیا ہے۔واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ جب روس کو طاقت حاصل ہوئی سیاسی مساوات اور حریت کے وہ تمام دعوے جو روس کرتا تھا دھرے کے دھرے رہ گئے اور اب اس دعوی کا نشان تک مٹا جارہا ہے کہ روس کا دوسرے ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔روس صرف اپنے ملک کے غرباء کی روٹی اور اُن کے کپڑے کا انتظام کرنا چاہتا ہے۔جب سیاسی دنیا میں آکر 126)