اسلام کا اقتصادی نظام — Page 106
ناکام رہی ہے اور خود اس کے لیڈروں نے اسے تسلیم کر لیا ہے کہ اس کے اصول بطور ایک فلسفہ کے جاری نہیں کئے جاسکتے بلکہ حسب ضرورت اُن میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے اور کمیونزم کے سوا دوسرے اصولوں کی مدد سے ملک اور قوم کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔اسلام کے کامیاب اقتصادی نظام کے مقابل پر یہ زبردست ناکامی اسلامی تعلیم کی برتری کا ایک بین ثبوت ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ کمیونزم کوئی اصولی فلسفہ نہیں بلکہ محض ایک سیاسی تحریک ہے جس کی اصل غرض روس کو طاقتور بنانا ہے اور اُسے مذہب کے مقابل پر کھڑا کرنا سچائی اور دیانت کا منہ چڑانا ہے۔چنانچہ اسٹیفن کنگ حال ممبر پارلیمنٹ انگلستان حال ہی میں روس میں دورہ کر کے آئے ہیں اُن کا ایک مضمون "SOVIET UNION“ ماہ جون میں چھپا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں کہ روس کے اس وقت دو بڑے مقصد ہیں۔(۱) روس کو ازسر نو تعمیر کرنا۔(۲) روس کو دنیا میں سب سے بڑا ، سب سے اچھا، سب سے زیادہ مالدار قوم بنانا۔(دیکھو 6۔SOVIET UNION NEWS VOL-IV, No) پس کمیونزم محض ایک سیاسی تحریک ہے اور اس کی اصل غرض روس کو طاقتور بنانا ہے۔کمیونزم تحریک کے نتیجہ میں علمی ترقی کی بندش (۳) تیسر انقص کمیونزم میں یہ ہے کہ اس نظام کی وجہ سے جو کمیونزم نے قائم کیا ہے گو روٹی کپڑا ملتا ہے مگر اس کا ایک بہت بڑا نقص یہ ہے کہ اس سے آئندہ علمی ترقی بالکل رُک جائے گی اس لئے کہ روٹی اور کپڑے کے لئے جتنار و پید ایک شخص کو ملتا ہے وہ اتنانا کافی ہوتا ہے کہ اس میں سفر کرنا اور دنیا میں پھر نا ایک کمیونسٹ کے لئے بالکل ناممکن ہے۔جب تک روسیوں کو اقتصادیات میں حریت شخصی حاصل تھی وہ اپنے روپیہ کا ایک حصہ مختلف سفروں (106)