اسلام کا اقتصادی نظام — Page 60
اسلام کا اقتصادی نظام جالات نفتی چلی جاتی ہے اسی طرح وہ سود کے جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں اور اس بات پر ذرا بھی غور نہیں کرتے کہ اُن کے اس طریق کا ملک اور قوم کے لئے کیسا خطرناک نتیجہ نکلے گا اور اس الزام سے کمیونزم کے حامی بھی بری نہیں وہ بھی اس جڑ کو جو سرمایہ داری کا درخت پیدا کرتی ہے نہ صرف یہ کہ کاٹتے نہیں بلکہ وہ اُسے بُرا بھی نہیں کہتے۔ہزاروں لاکھوں کمیونسٹ دنیا میں ملیں گے جو سود لیتے ہیں اور اس طرح بالواسطہ سرمایہ داری کی جڑیں مضبوط کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔شود کی وسیع تعریف اسلام نے شود کی ایسی تعریف کی ہے جس سے بعض ایسی چیزیں بھی جو عرف عام میں سود نہیں سمجھی جاتیں سود کے دائرہ عمل میں آجاتی ہیں اور وہ بھی بنی نوع انسان کے لئے ناجائز ہو جاتی ہیں۔اسلام نے سود کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ کام جس پر نفع یقینی ہو۔اب اس تعریف کے ماتحت جتنے ٹرسٹ ہیں وہ سب ناجائز سمجھے جائیں گے کیونکہ ٹرسٹ کی غرض یہی ہوتی ہے کہ مقابلہ بند ہو جائے اور جتنا نفع تاجر کمانا چاہیں اتنا نفع اُن کو بغیر کسی روک کے حاصل ہو جائے۔مثلاً ایک ملک کے پندرہ بیس بڑے بڑے تاجر ا کٹھے ہو کر اگر ایک مقررہ قیمت کا فیصلہ کرلیں اور ایک دوسرے کا تجارتی مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک چیز جو دو روپے کو تجارتی اصول پر چکنی چاہئے اُس کے متعلق وہ کہہ سکتے ہیں ہم اُسے پانچ روپے میں فروخت کریں گے اور چونکہ سب کا متفقہ فیصلہ یہی ہوگا۔اس لئے لوگ مجبور ہوں گے کہ پانچ روپے میں ہی وہ چیز خریدیں کیونکہ اس سے کم قیمت میں اُن کو وہ چیز کسی اور جگہ سے مل ہی نہیں سکے گی۔وہ ایک کے پاس جائیں گے تو وہ پانچ روپے قیمت بتائے گا، دوسرے کے پاس جائیں گے تو وہ بھی پانچ روپے ہی بتاتا ہے، 60