اسلام کا اقتصادی نظام — Page 56
روپیہ جمع کرنے کی حرص b پھر بعض لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو بہت سارو پید اپنے پاس جمع کر لیتے ہیں۔اسلام نے اپنے متبعین کو روپیہ جمع کرنے سے بھی روک دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِا فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكُوى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُم تَكْنِزُونَ فرماتا ہے وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُس کو خرچ نہیں کرتے ہم اُن کو ایک درد ناک عذاب کی خبر دیتے ہیں۔جب سونا اور چاندی جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور انہیں گلا کر اُن کے ہاتھوں اور اُن کے پہلوؤں اور اُن کی پیٹھوں پر داغ دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ خزانے ہیں جو تم نے اپنے لئے اور اپنے خاندان کی ترقی کے لئے روک رکھے تھے اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو تم نے اُن سے محروم کر دیا تھا۔فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ پس چونکہ لوگوں نے اس سونے اور چاندی سے فائدہ نہیں اٹھا یا بلکہ تم نے اُسے صرف اپنے لئے جمع کر رکھا تھا اس لئے آج ہم یہ سونا اور چاندی تمہاری طرف ہی واپس لوٹاتے ہیں۔مگر اُس جہان میں چونکہ سونا اور چاندی کسی کام نہیں آسکتے اس لئے ہم اس رنگ میں یہ سونا اور چاندی تمہیں دیتے ہیں کہ ان کو پگھلا پگھلا کر تمہارے ہاتھوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں پر داغ دینگے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ سونے اور چاندی کو روک رکھنا اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے اُسے صرف نہ کرنا کتنا بڑا گناہ تھا۔گو یہ مثال جو میں نے دی ہے اس میں روپیہ کے غلط خرچ کا ذکر نہیں بلکہ روپیہ جمع کرنے کا ذکر ہے لیکن در حقیقت یہ بھی غلط خرچ کے مشابہہ ہے کیونکہ 56