اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 127

اسلام کا اقتصادی نظر کمیونزم کی رائے بدل گئی اور اُس نے خود اپنے بنائے ہوئے اصول کو اپنے ملک کے فائدہ اور برتری کے لئے واضح طور پر پس پشت ڈال دیا۔جارجیا، بخارا فن لینڈہ لٹویا، لیتھونیا، استھو نیا پر قبضہ کر لیا فن لینڈ، پولینڈ، رومانیہ، زیکو سلواکیہ کوکم و بیش سیاسی اقتدار کے تلے لے آیا، ایران اور ترکی کو زیر اثر لانے کے لئے جوڑ توڑ کر رہا ہے، چین کے حصے بخرے کرنے کی تجویزیں ہو رہی ہیں آخر کس مساوات اور حریت ضمیر کے قانون کے ماتحت اُس کے لئے یہ جائز تھا کہ ان ممالک پر قبضہ کرتا۔کیوں فن لینڈ اپنے ملک کا ایک حصہ کاٹ کر روس کو دیتا۔یا کیوں لٹویا اور لیتھونیا اور استھونیا کی آزادی کو سلب کر لیا جاتا۔کیا ان ممالک کا یہ فرض تھا کہ وہ وائٹ رشیا کی حفاظت کرتے اور اپنے آپ کو روس کے لئے قربان کر دیتے۔یا جار جیا اور بخارا کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ روسی حکومت میں اپنے آپ کو شامل کر دیتے۔اگر خریت ضمیر اور مساوات اسے جائز قرار دیتے ہیں تو اس کے الٹ کیوں نہ ہوا۔کیوں روس کا کچھ حصہ کاٹ کر فن لینڈ کو نہ دے دیا گیا تاوہ مضبوط ہو کر اپنی حفاظت کر سکے، کیوں نہ کچھ حصے کاٹ کر پولینڈ، رومانیا، ترکی اور ایران کو نہ دیے گئے تاوہ مضبوط ہو جاتے۔ان کمزور ملکوں کو حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے یا طاقتور روس کو ؟ پس حفاظت کے اصول کے لحاظ سے ان ملکوں کو اور علاقے ملنے چاہئیں تھے نہ کہ روس کو۔مگر بات یہ ہے کہ پہلے اگر روس خاموش تھا تو محض اس لئے کہ اُس کے پاس طاقت نہیں تھی۔جب اُس کے پاس طاقت آگئی تو یہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں اُس کا شکار بن گئیں مگر دنیا کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لئے کہا گیا کہ ہم ان ممالک پر اس لئے قبضہ کرتے ہیں کہ روی سرحدیں ان کے بغیر محفوظ نہیں ہیں۔اگر یہ طریق درست ہے تو کل امریکہ والے بھی کہہ دیں گے کہ ہمارے لئے جاپانی جزیروں پر قبضہ کر ناضروری ہے کیونکہ ہمارے ملک کی حفاظت اس کے بغیر نہیں ہوسکتی۔کہتے ہیں ”زبردست کا ٹھینگا سر پر جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ (127)