اسلام کا اقتصادی نظام — Page 80
اسلام کا اقتصادی اُن کی بنیاد اس امر پر ہے کہ تمام انسانوں میں مساوات ہونی چاہئے کیونکہ اگر ہر شخص کام کرتا ہے تو ہر شخص مساوی بدلہ کا مستحق ہے اور کوئی شخص زائد دولت اپنے پاس رکھنے کا حقدار نہیں اور اگر کسی شخص کے پاس زائد دولت ہو تو وہ اُس سے لے لینی چاہئے۔یہ اُس کا اقتصادی نظریہ ہے۔اس نظریہ کا ایک سیاسی ماحول بھی ہے مگر چونکہ میرا مضمون سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی ہے اس لئے میں اُسے نہیں چھوتا۔جہاں تک نتیجہ کا سوال ہے یہ بات بالکل درست ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو روٹی ملنی چاہئے ، ہر انسان کو کپڑا ملنا چاہئے ، ہر انسان کو رہائش کیلئے مکان ملنا چاہئے ، ہر انسان کے علاج کا سامان ہونا چاہئے ، ہر انسان کی تعلیم کی صورت ہونی چاہئے۔یعنی بنی نوع انسان کی ابتدائی حقیقی ضرورتیں بہر حال پوری ہونی چاہئیں اور کوئی شخص بھوکا یا پیاسا یا نگا نہیں رہنا چاہئے۔اسی طرح کوئی شخص ایسا نہیں ہونا چاہئے جو بغیر مکان کے ہو، جس کی تعلیم کی کوئی صورت نہ ہو اور جس کے بیمار ہونے کی صورت میں اُس کے علاج کا کوئی سامان موجود نہ ہو۔پس جہاں تک اس نتیجہ کا سوال ہے اسلام کی تعلیم کو اس سے گلی طور پر اتفاق ہے۔وہ سو فیصدی اس بات پر متفق ہے کہ پبلک کا اقتصادی نظام ایسا ہی ہونا چاہئے اور اسلام کے نزدیک بھی وہی حکومت صحیح معنوں میں حکومت کہلا سکتی ہے جو ہر ایک کیلئے روٹی مہیا کرے، ہر ایک کیلئے کپڑا مہیا کرے، ہر ایک کیلئے مکان مہیا کرے، ہر ایک کی تعلیم کا انتظام کرے اور ہر ایک کے علاج کا انتظام کرے۔پس اس حد تک اسلام کمیونزم کے نظریہ سے بالکل متفق ہے گو یہ فرق ضرور ہوگا کہ اگر کوئی شخص اپنی قابلیت کا اظہار کرنا چاہے تو کمیونزم کے ماتحت وہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں انفرادی جدو جہد کا راستہ بالکل بند کر دیا گیا ہے۔80