اسلام کا اقتصادی نظام — Page 3
سپر دکرنے والے کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے لیکن وہ شخص جو آزاد ہوتا ہے اپنے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ میں جس طرح چاہوں کروں میں کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں۔پس قرآن کریم نے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ دنیا جہان کی حکومتیں، بادشاہتیں اور اقتدار چونکہ خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اور اُس کی طرف سے بطور امانت انسانوں کے سپرد ہیں اس لئے سب انسان بادشاہتوں اور ظاہری ملکیتوں کے متعلق اپنے آپ کو آزاد نہیں سمجھ سکتے۔وہ بظاہر بادشاہ یا بظاہر مالک ہیں لیکن حقیقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے متوتی ہیں اس لئے جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے انہیں ان امانتوں کے صحیح مصرف کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہوگا۔حکومت و بادشاہت کے متعلق اسلام کا نقطہ نگاہ پھر قرآن کریم یہ امر بھی صراحتا بیان فرماتا ہے کہ بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اس پر کسی کا ذاتی حق نہیں ہوتا۔چنانچہ فرماتا ہے۔قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ كوني الْمُلْكَ مَن نَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ عن نَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تقاء بييكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ عَلى قَدِيرٌ یعنی اے مخاطب ! تو کہہ دے کہ اے اللہ! تمام بادشاہتوں کے مالک خدا! تو جس کو چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے اور جس کے ہاتھ سے واپس لینا چاہے اُس کے ہاتھ سے واپس لے لیتا ہے۔جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ساری خیر اور نیکی تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت میں بھی بتایا گیا ہے کہ بادشاہت جب کسی شخص کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت آتی ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر صورت میں ہر بادشاہ 3