اسلام کا اقتصادی نظام — Page 67
اسلام کا اقتصادی زن زكوة اوّل زکوۃ کا حکم دیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس قدر جائداد کسی انسان کے پاس سونے چاندی کے سکوں یا اموال تجارت وغیرہ کی قسم میں سے ہو اور اُس پر ایک سال گزر چکا ہو حکومت اُس سے انداز اڑھائی فیصدی سالا نہ ٹیکس لے لیا کرے گی جو ملک کے غرباء اور مساکین کی بہبودی پر خرچ کیا جائے گا۔اگر کسی شخص کے پاس چالیس روپے جمع ہوں اور اُن چالیس روپوں پر ایک سال گزر جائے تو اس کے بعد لازماً اُسے اپنے جمع کردہ مال میں سے ایک روپیہ حکومت کو بطور ز کوۃ ادا کرنا پڑے گا۔یادرکھنا چاہئے کہ یہ انکم ٹیکس نہیں جو آمد پر ادا کیا جاتا ہے بلکہ زکو جمع کئے ہوئے مال پر کیپیٹل ٹیکس ہے جوغر باء کی بہبودی کے لئے لیا جاتا ہے اور زکوۃ ہر قسم کے مال پر واجب ہوتی ہے۔خواہ سگے ہوں یا جانور ہوں یا غلہ ہو یا زیور ہو یا کوئی دوسرا تجارتی مال ہو۔صرف سونے چاندی کے وہ زیور جو عام طور پر عورتوں کے استعمال میں رہتے ہوں اور غرباء کو بھی کبھی کبھی عار بیتے دیئے جاتے ہوں اُن پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔لیکن اگر وہ زیورات خود تو عام طور پر استعمال کئے جاتے ہوں مگر غرباء کو عاریتہ نہ دیئے جاتے ہوں تو اس صورت میں اُن کی زکوۃ ادا کرنا بھی فقہائے اسلام زیادہ مناسب قرار دیتے ہیں۔اور جو زیور عام طور پر استعمال میں نہ آتے ہوں اُن پر زکوۃ ادا کرنا تو نہایت ضروری ہے اور اسلام میں اس کا سختی سے حکم پایا جاتا ہے۔یہ زکوۃ جب تک کسی کے پاس مال بقدر نصاب باقی ہو ہر سال ادا کرنی ضروری ہوتی ہے اور نہ صرف سرمایہ پر بلکہ سرمایہ اور نفع دونوں کے مجموعہ پر ادا کرنی ہوتی ہے۔پس اگر کوئی شخص او پر بیان کردہ تمام قیود اور پابندیوں کے باوجود کچھ روپیہ پس انداز کر لے تو اسلامی حکومت اس ذریعہ سے ہر سال اُس سے ٹیکس وصول کرتی چلی جائے گی کیونکہ اسلامی نقطہ 67