اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 2

یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح شاخیں اپنے درخت کی جڑوں میں سے نکلتی ہیں اسی طرح مختلف مسائل پہلے سے قائم شدہ بنیادی مسائل میں سے نکلتے ہیں اور اُن بنیادی مسائل کو سمجھے بغیر بعد میں پیدا ہونے والے مستخرج مسائل کی حقیقت کو لوگ آسانی کے ساتھ نہیں سمجھ سکتے اس لئے اسلام کے اقتصادی نظام کو بیان کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اختصار کے ساتھ یہ بھی بیان کر دوں کہ اسلام کے گلی نظام کی بنیاد کس امر پر ہے۔اسلام سے قلمی نظام کی بنیاد اسلام اپنے تمام سیاسی، اقتصادی اور تمدنی اور دیگر ہر قسم کے نظاموں کی بنیاد اس امر پر رکھتا ہے کہ بادشاہت اور مالکیت خدا تعالیٰ کو ہی حاصل ہے چنانچہ سورۃ زخرف رکوع سات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ یعنی بہت برکت والا وہ خدا ہے جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اسی طرح جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھی اُسی کے قبضہ و تصرف میں ہے اور ان چیزوں کا اپنے مقصد اور مدعا کو پورا کر کے جب فناء کا وقت آئے گا تو اس کا علم بھی اُسی کو ہے اور پھر آخر ہر چیز خدا کی طرف ہی جانے والی ہے۔اس آیت میں قرآن کریم نے یہ بات پیش کی ہے کہ در حقیقت آسمان اور زمین خدا تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہر چیز جو یہاں زندگی گزار رہی ہے اس کا منتہی اور مرجع خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر کوئی شخص کسی امر کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے یا کوئی امانت اُس کے سپرد کی جاتی ہے تو وہ اس ذمہ داری کی ادائیگی اور اس امانت میں خیانت نہ کرنے کے متعلق امانت 2