اسلام کا اقتصادی نظام — Page 62
کر کف افسوس ملتا ہوا گھر واپس آجاتا ہے۔فرض کرو ایک شخص کا اس تجارت پر دس لاکھ روپیہ صرف ہوا۔اُسے توقع تھی کہ مجھے نفع حاصل ہوگا۔پس اُس نے یورپین فرم کے مقابلہ کے لئے قیمت گرا کر رکھی مگر اُس کو میدان مقابلہ میں دیکھتے ہی وہ یورپین فرم لاکھ کی قیمت اس قدر گرا دے گی کہ اُس تاجر کو راس المال بچانا بھی مشکل ہو جائے گا اور آخر وہ مجبور ہوکر لاگت سے کم داموں پر اُسی یورپین فرم کو اپنا لاکھ کا سٹاک دینے پر مجبور ہو جائے گا۔اس یورپین فرم کو قیمت گرانے سے نقصان نہ ہوگا کیونکہ اپنے حریف کو شکست دے کر وہ پھر قیمت بڑھا دے گی۔اس رنگ میں وہ یورپین فرم لاکھ کی تجارت کو اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور کوئی اُس کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرتا۔غرض جس قدر ٹرسٹ ہیں وہ بنی نوع انسان کو تباہ کرنے والے ہیں اور چونکہ ٹرسٹ سسٹم میں نفع یقینی ہوتا ہے اس لئے اسلام کے مذکورہ بالا قاعدہ کے مطابق ٹرسٹ سسٹم اسلام کے رو سے ناجائز قرار دیا جائے گا۔یہی حال کارٹل سسٹم کا ہے۔کارٹل سسٹم بھی ایک ایسی چیز ہے جو اسلامی نقطہ نگاہ سے بالکل ناجائز ہے۔ٹرسٹ سسٹم میں جہاں ایک ملک کے تاجر آپس میں سمجھوتہ کر کے تجارت کرتے ہیں وہاں کارٹل سسٹم میں مختلف ممالک کے تاجر آپس میں اتحاد پیدا کر لیتے ہیں اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں چیز فلاں قیمت پر فروخت کرنی ہے اس سے کم میں نہیں۔ٹرسٹ سسٹم تو یہ ہے کہ ہندوستان کے تاجر آپس میں کسی امر کے متعلق سمجھوتہ کر لیں اور کارٹل سسٹم یہ ہے کہ مثلاً امریکہ اور انگلستان کے تاجر یا امریکہ، انگلستان اور جرمنی کے تاجر یا انگلستان اور ہندوستان کے تاجر آپس میں کسی تجارت کے متعلق سمجھوتہ کر لیں۔فرض کروکیمیکلز (CHEMICALS) یعنی کیمیائی ساخت کی اشیاء کے متعلق سمجھوتہ کر لیں۔مثلاً اس زمانہ میں امریکہ ، انگلستان اور جرمنی یہ تین ممالک ہی کیمیکلز بنانے والے 62