اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 1

اسلام کا اقتصادی نظام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اسلام کا اقتصادی نظام ( تقریر فرموده ۲۶ فروری ۱۹۴۵ء بمقام احمد یہ ہوٹل واقع ۳۲ ڈیوس روڈ لا ہور ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مضمون کی اہمیت میرا خطبہ آج اسلام کے اقتصادی نظام پر ہے۔یہ مضمون اتنا وسیع ہے کہ اس کو تھوڑے سے وقت میں بیان کرنا ایک نہایت ہی مشکل کام ہے اور بعض دفعہ کسی چیز کو اُس کے اصل مقام سے جدا کر کے پیش کر دینا اسے مبہم بنا دیتا اور اس کی اہمیت کو کمزور کر دیتا ہے مگر پھر بھی میں کوشش کروں گا کہ جہاں تک ہو سکے مختصر طور پر اور ایسی صورت میں کہ میرا مضمون سمجھ میں آسکے میں اسلام کے اقتصادی نظام کو آپ لوگوں کے سامنے پیش کروں اور وہ ضروری ضروری امور جو اُس کے ماحول سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس کے بنیادی اصول کے ساتھ وابستہ ہیں انہیں بھی بیان کروں۔چونکہ اسلام کا اقتصادی نظام ایک ایسی شکل رکھتا ہے جسے ایک رنگ میں اُس نظام سے مشابہت ہے جسے آجکل کمیونزم کہتے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں میرا مضمون اُدھورا رہے گا اگر میں اس تحریک کے متعلق بھی اسلامی نقطۂ نگاہ پیش نہ کروں اور وہ فرق بیان نہ کروں جو اسلامی اقتصادی تحریک اور کمیونزم کی اقتصادی تحریک میں ہیں۔1