اسلام کا اقتصادی نظام — Page v
اسلام کا اقتصادی نظام ایم۔اے کے بعض طلباء نے حضور کی اس تقریر کے متعلق یہ خواہش ظاہر کی کہ اس کا انگریزی ترجمہ چھپوا کر یونیورسٹی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسروں کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔نیر انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں مختلف سکیمیں ہندوستان کی آئندہ ترقی اور بہبودی کیلئے دوسرے لوگوں کی طرف سے پیش ہو رہی ہیں وہاں یہ اسلامی نظام جو حضور نے پیش فرمایا ہے مسلمانوں کے خیالات کی نمائندگی کرے گا الغرض جوں جوں اس تقریر کی شہرت ہوئی بعض لوگ جو یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے اور چوٹی کے پروفیسر تھے اُنہوں نے اپنے ملنے والوں سے معذرتیں کیں اور اس امر پر افسوس کیا کہ وہ بوجہ بعض دوسری مصروفیتوں کے اس عظیم الشان لیکچر کے سننے سے محروم رہے۔حضور نے اپنے فاضلانہ خطاب کے آغاز میں سب سے پہلے نہایت لطیف پیرایہ میں اسلام کی اقتصادی تعلیم کا ماحول بیان فرمایا اور پھر اموال سے متعلق اسلامی نظریہ کی وضاحت کی اور نہایت تفصیل سے بتایا کہ اسلام نے کس طرح صرف دولت کے غلط استعمال ہی کو نہیں روکا بلکہ اس کے ناجائز طور پر حصول کا بھی مؤثر سد باب فرمایا ہے۔حضور نے اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں کمیونزم کی تحریک کا مذہبی، اقتصادی، سیاسی، نظریاتی اور عملی لحاظ سے تفصیلی جائزہ لیا اور آخر میں اُس کے متعلق بائبل کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کا اُردو متن سنانے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اپنی پیشگوئی کا بھی ذکر فرمایا۔الغرض حضرت مصلح موعودؓ کے اس لیکچر نے چوٹی کے علمی طبقوں میں ایک تہلکہ مچادیا اور اللہ تعالی کے فضل سے اُسے ہر سطح پر غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔(بمطابق انوار العلوم جلد ۱۸)