اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 39

سلام کا اقتصادی نظام لازماً اس دنیا کی زندگی کو تابع کرے گا اگلے جہان کی زندگی کے۔اور چونکہ اس دنیا کے ایسے ہی کاموں پر اگلے جہان کی زندگی کا مدار ہے جو اپنی خوشی اور مرضی سے طوعی طور پر کئے جائیں اس لئے لازما وہ وہی اقتصادی نظام پسند کرے گا جس میں اقتصادی طور پر ایک وسیع دائرہ میں افراد کو آزادی دی گئی ہو کیونکہ اگر آزادی نہ دی گئی ہو تو جن کاموں کو وہ نیک سمجھتا ہے، جن کاموں کو اختیار کرنا وہ اپنی اُخروی حیات کے لئے ضروری قرار دیتا ہے اُن میں اُس کا دائرہ عمل وسیع نہیں ہوگا اور وہ سمجھے گا کہ دائر کا عمل کے تنگ ہونے کی وجہ سے میں گھاٹے میں رہوں گا۔گویا مَا بَعْدَ الْمَوت اعلیٰ زندگی کا دارو مدار ہے اس دنیا کے طوعی نیک کاموں پر ، اور طوعی نیک کاموں کا مدار اقتصادی حریت پر ہے۔اگر اقتصادی طور پر افراد کو ایک وسیع دائرہ میں آزادی نہ دی جائے تو طوعی نیک کاموں کا سلسلہ اور اخلاق فاضلہ کی وسعت بند اور محدود ہو جاتی ہے اور انسان اپنے آپ کو گھاٹے میں سمجھتا ہے۔پس جو مذہب مرنے کے بعد کی زندگی کا قائل ہے اور اس دنیا کو عالم مزرعہ سمجھتا ہے وہ پابند ہے اِس کا کہ سوائے اشد مجبوری کی حالتوں کے انفرادی آزادی کو اقتصادیات میں قائم رکھے۔میں انفرادی آزادی کو ملحوظ رکھنا اس مسئلہ کو خوب ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ اسلام سب سے زیادہ حیات بعد الموت کا قائل ہے اس لئے اسلام مصر ہے اس بات پر کہ اقتصادیات میں انفرادی آزادی کو زیادہ سے زیادہ قائم رکھا جائے کیونکہ وہ جتنا زیادہ آزاد ہو گا اُسی قدر زیادہ اپنی مرضی سے کام کر کے اگلے جہان کی زندگی کو سدھار سکے گا۔اگر زندگی کے ہر پہلو کو مختلف قسم کے جالوں میں جکڑ دیا گیا تو وہ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کر سکے گا اور جب کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کر سکے گا تو اُسے اگلے جہان میں کسی ثواب کی بھی امید نہیں ہو سکے گی کیونکہ ثواب ملتا ہے 39